رند پارسا

image

عہدہ، مقام و مرتبہ انسانی معاشرے میں امتیازی حیثیت کے ساتھ ساتھ احساس ذمہ داری کے احیاء کا بھی ضامن ہوتا ہے۔ نوع آدم عادتاً کلیدی حیثیت حاصل کرنے کی خواہاں رہی ہے۔ نظام عالم میں معاشرت برقرار رکھنے کیلئے بھی ہر سطح پر کنٹرول کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی لئے عہدہ یا مقام و مرتبہ سطحی کنٹرول کے مطابق رکھا جاتا ہے۔ جیسے ملکوں کا کنٹرول سربراہ مملکت کے ذمے اور مزید یہ کہ وہ مختلف شعبہ جات کیلئے وزراء اور مشیروں کا تعین کرتا ہے۔ اس سے نچلی سطح پر آ جائیں تو صوبائی حکومتیں، پھر شہری حکومتیں اور اس سے نیچے یونین کونسلوں میں عہدے تقسیم شدہ ہوتے ہیں۔ ہر عہدیدار اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے۔

زمانہء قدیم میں جب بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں، سلاطین بھی وزراء اور سفراء کے ذریعے روزگار حکومت چلاتے تھے۔ اسی طرح عدل و انصاف کا نظام بھی زینہ بہ زینہ قصبوں اور شہروں سے ہوتا ہوا دارلخلافہ تک قاضی القضاء کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔ جیسے آج کل سول، سیشن، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی صورت میں چل رہا ہے۔ تھوڑا غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نظام طبقاتی اور سطحی مراتب میں منقسم ہے اور ہر عہدے پر ایک صاحب اختیار براجمان ہوتا ہے۔ 

بہترین نظام ناظم کی بہترین صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ناظم اپنے فرائض منصبی سے تغافل کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ترجیحی بنیادوں پر ادا نہیں کرتا تو اس کی رعایہ ایک نہ ایک دن ناظم سے اور پھر گاہے بگاہے نظام سے متنفر ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً عوام کی عدم دلچسپی نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ یوں بڑی بڑی ریاستیں اپنی رٹ قائم نہیں رکھ پاتیں۔ جدید ریاستوں میں 4 بنیادی ستون عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور معلومات کی ترسیل یعنی میڈیا ہیں۔ اگر ان سب شعبوں کے ذمہ داران سستی اور تغافل کا مظاہرہ کریں گے تو عنقریب وہ ریاستی اسٹرکچر کو نقصان پہنچائیں گے۔

اس ضمن میں ایک چھوٹی سی مثال پیش خدمت ہے کہ میکدے کا ناظم ایک ساقی ہوتا ہے۔ ناظم کے ذمے برابری کی سطح پر انصاف کے ذریعے جام تقسیم کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسے اختیار ہوتا ہے کہ شور شرابہ کرنے والوں کو کنٹرول کرے اور پر مست بادہ خواروں کی مستی کو برباد ہونے سے بچائے۔ اگر ساقی بھی شور شرابہ کرنے والوں سے مل جائے اور جام تقسیم کرنے میں انصاف نہ کرے تو میکدہ زیادہ دن نہ چل پائے گا۔ یوں جو تباہی مچے گی ایک دن ساقی بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا۔  یہی حال ملک خداد کے اکثر اداروں کا ہے۔ ریاست اداروں کی ساکھ پہ اپنی رٹ قائم بھی کرتی ہے اور برباد بھی کرتی ہے۔

اگر ہر ادارے کا ناظم رند پارسا بن جائے تو ادارہ بھی ترقی کرے اور ریاست بھی خوشحال ہو۔ عدالتیں اگر بروقت انصاف یقینی بنائیں تو طاقتور کے خلاف غریب کی داد رسی ہو۔ انصاف کے اداروں پہ عوامی اعتماد ریاست کی بقا کا حتمی ضامن ہوتا ہے۔ کتنی ہی ریاستیں انصاف کے نام پہ وجود میں آئیں اور کتنی ریاستیں ناانصافی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ سربراہان مملکت بھی اگر رند پارسا ثابت ہوں تو 22 کروڑ کی آبادی ایک قوم بن کر افق عالم پر چمکتا ہوا آفتاب ہو سکتے ہیں۔ کوئی مزائقہ نہیں اگر پولیس اصلاحات کی جائیں تو جرائم کی شرح نیچے لائی جا سکتی ہے۔

رند پارسائی اعلیٰ حکومتی و ادارہ جاتی سربراہان سے شروع ہونی چاہئے، تاکہ زینہ بہ زینہ نیچے تک ایک اچھی روایت قائم ہو سکے۔ معاشرے میں معذرت کے ساتھ فی الوقت اخلاقی اقدار نا ہونے کے برابر ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے تو ہجوم کو قوم کا تصور دینا ہے۔ جب تک ہم پیٹ سے سوچتے رہیں گے، ہمارا حال اگلی کئی دہائیوں تک ایسے ہی رہے گا۔ شاید اس سے بھی بدتر نہ ہو جائے خدانخواستہ۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو فرعونیت کی بجائے صلہ رحمی اور اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانا چاہئے۔ تاکہ 96 فیصد غریب پاکستانیوں کو 4 فیصد ایلیٹ کلاس سے تحفظ ملے۔ معاشی ماہرین کو 60 بڑے خاندانوں کی بجائے 22 کروڑ پاکستانیوں کے بارے میں پالیسیاں بنانی چاہیئیں۔

سربراہ کی ترجیحات  اس کے ادارہ یا ملک کی راہ متعین کرتی ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں موجود چین نے کروڑوں لوگوں کو اقدامات کے ذریعے غربت سے نکالا۔ جرمنی نے پلاننگ کے ذریعے دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں جگہ بنائی ہے۔ ہم اگر ایٹمی پاور بن سکتے ہیں تو معاشی پاور کیوں نہیں؟ ہمارے ادارہ جاتی رندوں اور ملکی رندوں کو تھوڑا نہیں پورا سوچنا ہو گا۔