قلعہ اسلام گڑھ: چولستان کے ریگستان میں تاریخ کا خاموش محافظ

image

دی ویووز نیٹ ورک: قلعہ اسلام گڑھ کی تعمیر کے بارے میں سرکاری اور تحقیقی ذرائع میں 1665ء کا ذکر ملتا ہے، جبکہ قومی ادارہ برائے تاریخی و ثقافتی تحقیق کے ایک مطالعے میں اس کی تعمیر سے متعلق کتبے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ قلعہ راول بھیم سنگھ سے منسوب کیا جاتا ہے اور ابتدا میں اسے بھیم ور کہا جاتا تھا۔ قلعے کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ اس کی بلند فصیلیں اور دفاعی برج اسے ایک مضبوط صحرائی قلعے کی حیثیت دیتے تھے۔ 

وقت کے ساتھ اس قلعے کی سیاسی حیثیت بھی تبدیل ہوتی رہی اور ایک مرحلے پر اختیار خان مندھانی نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ تحقیقی ریکارڈ کے مطابق اسی تبدیلی کے بعد قلعے کا نام اسلام گڑھ رکھا گیا، اگرچہ مختلف ذرائع میں قبضے اور نام کی تبدیلی کا سال مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔ یہ اختلاف اس بات کی اہمیت کو کم نہیں کرتا کہ قلعہ مختلف حکمران قوتوں کے درمیان چولستان کی سیاسی اور دفاعی اہمیت کا ایک اہم مرکز رہا۔ قلعے کی تاریخ دراصل اس خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی طاقتوں کی تاریخ کا بھی ایک حصہ ہے۔ 

اسلام گڑھ قلعے کا بنیادی نقشہ مربع نوعیت کا بتایا گیا ہے اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی فصیل تقریباً 315 فٹ × 315 فٹ تھی۔ اس کی دیواریں پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں اور دفاعی ضرورت کیلئے بلند فصیلوں اور برجوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ صحرائی ماحول میں اس نوعیت کی تعمیر اس بات کی عکاس تھی کہ قلعے صرف رہائش گاہیں نہیں بلکہ دفاع، نگرانی اور آمدورفت کے اہم مراکز بھی ہوتے تھے۔ آج بھی باقی رہ جانے والے حصے اس قدیم تعمیراتی مہارت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ 

چولستانی قلعوں کے نظام میں مقام: اسلام گڑھ کو الگ تھلگ عمارت سمجھنا اس کی تاریخی اہمیت کو محدود کر دیتا ہے، کیونکہ یہ چولستان میں پھیلے ہوئے تاریخی قلعوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ تھا۔ یونیسکو کے مطابق اسلام گڑھ سمیت چولستان کے متعدد قلعے صحرائی راستوں کے ایک نیٹ ورک کی صورت رکھتے تھے، جنہوں نے تجارتی اور قافلہ جاتی راستوں کے تحفظ میں کردار ادا کیا۔ یہ راستے وسطی ایشیا اور برصغیر کے مختلف علاقوں کو باہم ملانے کے ساتھ مذہبی سفر کرنے والے قافلوں کیلئے بھی اہم تھے۔ یوں اسلام گڑھ کی اہمیت صرف مقامی دفاع تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی جغرافیہ سے بھی جڑی ہوئی تھی۔ 

چولستان کی سخت صحرائی آب و ہوا میں پانی ہمیشہ زندگی اور آبادی کا بنیادی مسئلہ رہا ہے، اسی لیے ایسے قلعوں کے وجود میں پانی کے ذرائع کی خاص اہمیت تھی۔ تحقیقی مواد میں اسلام گڑھ کے قریب قابلِ استعمال پانی کی دستیابی اور قلعے کے باہر مستقل انسانی آبادی کا ذکر ملتا ہے۔ مقامی تاریخی روایات میں قلعے کے قریب کنوؤں کا بھی ذکر آتا ہے۔ اس حقیقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام گڑھ صرف فوجی چوکی نہیں بلکہ ایک ایسے مقام کے طور پر بھی اہم تھا جہاں انسان اور مویشی صحرائی ماحول میں قیام کر سکتے تھے۔ 

بیسویں صدی میں برصغیر کی سیاسی صورت حال نے چولستان کے سرحدی قلعوں کی اہمیت کو ایک نئے تناظر میں نمایاں کیا۔ بعض اخباری تاریخی رپورٹس کے مطابق اسلام گڑھ قلعہ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران گولہ باری سے بھی متاثر ہوا۔ تاہم ان جنگی واقعات کی تفصیلات بیان کرتے وقت مختلف ذرائع کے بیانات میں فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بہرحال جنگوں، وقت اور قدرتی عوامل نے قلعے کی موجودہ خستہ حالت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ 

آج اسلام گڑھ قلعہ اپنی سابقہ شان و شوکت کے مقابلے میں ایک مختلف منظر پیش کرتا ہے، مگر اس کے باقی ماندہ آثار اب بھی ماضی کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی اسے چولستان کے اہم تاریخی مقامات میں شمار کرتی ہے اور اس کے محلِ وقوع کو رحیم یار خان اور بھارتی سرحد کے تناظر میں بیان کرتی ہے۔ اس قلعے کی موجودہ حالت اس امر کی متقاضی ہے کہ اس کے تاریخی ڈھانچے، باقی ماندہ فصیل اور آثار کو سائنسی اصولوں کے مطابق محفوظ کیا جائے۔ 

پاکستان میں تاریخی ورثے کی حفاظت صرف عمارتوں کو بچانے کا نام نہیں بلکہ ماضی کی تہذیبی یادداشت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا عمل بھی ہے۔ اسلام گڑھ جیسے قلعے ہمیں بتاتے ہیں کہ آج کا چولستان کبھی مختلف ریاستوں، حکمران خاندانوں، تاجروں، قافلوں اور مسافروں کی سرگرمیوں کا اہم خطہ تھا۔ اگر ان آثار کو مناسب تحفظ، تحقیق اور دستاویز بندی نہ ملے تو وقت کے ساتھ ان سے وابستہ بہت سا تاریخی علم بھی ضائع ہوسکتا ہے۔ اس لیے آثارِ قدیمہ کے ماہرین، مقامی انتظامیہ اور تحقیقی اداروں کے درمیان مربوط کوشش ناگزیر ہے۔

اسلام گڑھ قلعہ چولستان کے وسیع صحرائی منظرنامے، تاریخی قلعوں اور ثقافتی روایات کے ساتھ مل کر ایک منفرد سیاحتی تجربہ پیش کرسکتا ہے۔ یونیسکو نے چولستان کے تاریخی قلعوں کو ایک ایسے ثقافتی منظرنامے کے طور پر شناخت کیا ہے جس میں متعدد قلعے ایک دوسرے سے تاریخی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اگر رسائی، بنیادی سہولیات، رہنمائی، تحفظ اور مستند تاریخی معلومات فراہم کی جائیں تو اسلام گڑھ کو چولستان کے تاریخی سیاحتی راستے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح آثارِ قدیمہ کا تحفظ مقامی معیشت اور ثقافتی سیاحت کے فروغ سے بھی منسلک ہوسکتا ہے۔ 

قلعہ اسلام گڑھ چولستان کی ریت میں کھڑی محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ کئی صدیوں کے سیاسی، تہذیبی اور دفاعی سفر کی خاموش داستان ہے۔ اس کی بلند فصیلوں نے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات، حکمرانوں کی تبدیلی، جنگوں اور صحرائی زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام گڑھ کو ایک بھولی ہوئی عمارت کے بجائے پاکستان کے قومی اور ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر اس تاریخی قلعے کی مناسب تحقیق، دستاویز بندی اور بحالی کی جائے تو یہ آنے والی نسلوں کو چولستان کی گم گشتہ تاریخ سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔