کیا پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی پیش گوئی حقیقت ہے یا پھر ایک ادھورا خواب؟
دی ویووز نیٹ ورک: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف علاقوں سے یہ آواز بلند ہوتی رہی ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، اس لیے آبادی، رقبے، جغرافیائی حالات اور انتظامی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔ بعض حلقے اسے قومی یکجہتی، بہتر حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین کے نزدیک صوبوں کی تعداد بڑھانے سے انتظامی اخراجات اور سیاسی تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انتظامی ضروریات گزشتہ کئی دہائیوں میں بہت تبدیل ہو چکی ہیں۔ جو انتظامی تقسیم ایک مخصوص دور میں قابلِ عمل سمجھی جاتی تھی۔
نئے صوبے کا مطالبہ اس وقت ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بنتا ہے جب اس کے پیچھے محض سیاسی مفاد نہیں بلکہ عوامی ضرورت، انتظامی سہولت اور معاشی منطق موجود ہو۔ ایک ایسا صوبہ جس کا جغرافیائی حجم بہت بڑا ہو، جہاں دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بنیادی سرکاری سہولیات، اعلیٰ تعلیم، صحت، انصاف اور انتظامیہ تک رسائی کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑیں، وہاں انتظامی تقسیم پر بحث ایک فطری عمل ہے۔اسی طرح اگر کسی خطے کے عوام مسلسل یہ محسوس کریں کہ ان کے مسائل فیصلہ سازی کے مراکز تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہے تو نئے انتظامی یونٹ کا مطالبہ محض سیاسی جذبات نہیں رہتا بلکہ نمائندگی اور حکمرانی کے سوال سے جڑ جاتا ہے۔
پاکستان کا آئین نئے صوبوں کے قیام کو ناممکن قرار نہیں دیتا۔ تاہم اس کے لیے ایک باقاعدہ آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اگر کسی ترمیم سے کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی لازمی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے صوبے کا قیام محض ایک انتظامی حکم یا سیاسی اعلان سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی عمل اور متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کی حمایت ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور حقیقت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کا سب سے مشکل پہلو جغرافیہ نہیں بلکہ سیاست ہے۔ ہر صوبہ اپنے وسائل، سیاسی اثرورسوخ اور تاریخی حیثیت کو اہم سمجھتا ہے۔ کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرنے کی تجویز لازماً اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ نئے صوبے کی تشکیل کے بعد سیاسی طاقت کا توازن کس طرح تبدیل ہوگا؟ اسی وجہ سے بعض اوقات وہ تجاویز بھی جو انتظامی اعتبار سے قابلِ بحث اور قابلِ عمل ہو سکتی ہیں، سیاسی اختلافات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ نئے صوبوں کا معاملہ اگر صرف انتخابی جلسوں، نعروں اور سیاسی منشوروں تک محدود رہے تو اس کے عملی نتیجے کی توقع مشکل ہے۔ اس کے لیے پارلیمان سے لے کر صوبائی اسمبلیوں تک ایک وسیع سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔
صرف صوبہ بنانے سے غربت، بے روزگاری، پسماندگی یا وسائل کی کمی خود بخود ختم نہیں ہو جاتی۔ نیا صوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ مضبوط مالیاتی نظام، مؤثر ادارے، قابلِ عمل دارالحکومت، انتظامی انفراسٹرکچر اور مقامی سطح پر اختیارات کی حقیقی منتقلی بھی ہو۔ اگر ایک نئے صوبے کے پاس اپنا سیکریٹریٹ تو ہو لیکن اسکول، ہسپتال، یونیورسٹیاں، عدالتیں، سڑکیں، صنعت، روزگار اور مؤثر مقامی حکومت نہ ہو تو صرف نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچنے سے عوام کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
مقامی حکومتیں بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ پاکستان میں انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی نئے صوبوں کی تشکیل۔ آئین کا آرٹیکل 140-A ہر صوبے کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر عوام کو اپنے ضلع، تحصیل اور شہر کی سطح پر مؤثر اختیارات حاصل ہوں تو بہت سے مسائل صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام بھی پاکستان کی انتظامی اصلاحات کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث مختلف علاقوں میں مختلف تاریخی اور سیاسی پس منظر رکھتی ہے۔ کہیں بنیادی مطالبہ انتظامی محرومی کا ہے، کہیں نمائندگی کا، کہیں شناخت کا اور کہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کا۔ مثلاً ہزارہ جیسے خطے میں صوبے کا مطالبہ ایک طویل سیاسی جدوجہد اور انتظامی شناخت کے سوال سے وابستہ رہا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کی بحث بھی کئی برسوں سے سیاسی گفتگو کا حصہ رہی ہے۔ ان تمام مطالبات کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ہر خطے کی تاریخ، جغرافیہ، آبادی، معاشی صلاحیت اور عوامی خواہشات کا الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔
کیا یہ خواب ہی رہے گا یا حقیقت بن کر سامنے آئے گا، اس سوال کا جواب ہاں بھی ہے اور فی الحال مشکل بھی۔ ہاں، اس لیے کہ آئین نئے صوبے کے قیام کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ مشکل اس لیے کہ آئینی راستے کے ساتھ سیاسی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کو محض انتخابی وعدے کے بجائے قومی انتظامی اصلاحات کے طور پر دیکھیں، اگر ماہرین آبادی، رقبے، مالی وسائل، انتظامی استعداد اور جغرافیائی حقیقتوں کی بنیاد پر قابلِ عمل تجاویز تیار کریں، اور اگر متعلقہ علاقوں کے عوام کی رائے کو حقیقی اہمیت دی جائے تو نئے صوبوں کا قیام ایک قابلِ حصول مقصد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ معاملہ صرف سیاسی تقریروں، انتخابی نعروں اور وقتی مفادات تک محدود رہا تو یہ خواب آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ادھورا خواب ہی رہے گا۔
پاکستان کو یہ فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفاد کی بنیاد پر کرنا ہوگا کہ کہاں نئے صوبے واقعی ضروری ہیں اور کہاں مضبوط انتظامی اور بلدیاتی اصلاحات ہی کافی ہیں۔ نئے صوبے کوئی جادو کی چھڑی نہیں، لیکن مناسب حالات میں یہ بہتر حکمرانی، زیادہ مؤثر نمائندگی اور عوام تک ریاستی سہولیات کی رسائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو ریاستی اختیار، وسائل، انصاف اور ترقی میں برابر کا حصہ کیسے ملے؟ اگر نئے صوبے اس مقصد کو حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ بنتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے پیش رفت ہونی چاہیے۔ اور اگر کوئی دوسرا انتظامی ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو اس پر بھی کھلے ذہن سے غور ہونا چاہیے۔ لہٰذا نئے صوبوں کا خواب نہ مکمل طور پر ایک خیالی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فوری حقیقت۔ یہ ایک ایسا آئینی اور سیاسی امکان ہے جو عوامی ضرورت، سیاسی اتفاقِ رائے اور سنجیدہ قومی منصوبہ بندی کے ذریعے حقیقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔