ہاتوشا: چار ہزار سال پرانی تہذیب کی خاموش داستان
دی ویووز نیٹ ورک: تاریخ کے اوراق میں کچھ شہر ایسے ہیں جو صرف اینٹوں اور پتھروں کے کھنڈرات نہیں بلکہ پوری تہذیب کی داستان بن جاتے ہیں۔ ہاتوشا بھی ایسا ہی شہر ہے۔ آج یہ مقام ترکیہ کے صوبہ چورم کے ضلع بوغاز قَلعہ میں واقع ہے۔ تقریباً چار ہزار سال پہلے یہی علاقہ ہِتّی سلطنت کا مرکز تھا۔ ہِتّیوں نے اناطولیہ میں ایک طاقتور ریاست قائم کی اور ہاتوشا کو اس کا سیاسی، انتظامی اور مذہبی مرکز بنایا۔ یونیسکو کے مطابق اس شہر نے دوسری ہزار سال قبل مسیح میں اناطولیہ اور شمالی شام کی تہذیبوں پر نمایاں اثر ڈالا۔ تقریباً 1650 قبل مسیح کے آس پاس ہاتوشا ہِتّی دارالحکومت کے طور پر ابھرا۔ میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کے مطابق ہِتّی بادشاہ حتوشیلی اول (Hattushili I) کے دور میں ہاتوشا کو دارالحکومت بنایا گیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب مشرقِ قریب میں مصر، بابل، آشور اور ہِتّی جیسی بڑی طاقتیں اپنے سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ کیلئے سرگرم تھیں۔ ہاتوشا کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی شاندار دفاعی فصیلیں شامل ہیں۔ پورے شہر کے گرد موجود یادگاری حصار کی لمبائی 8 کلومیٹر سے زیادہ تھی۔ شہر کو بنیادی طور پر زیریں اور بالائی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ بالائی شہر کی دفاعی دیواروں میں 100 سے زیادہ برج موجود تھے، جبکہ شہر میں کئی یادگار دروازے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان میں تین دروازے خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ شیر کا دروازہ (Lion's Gate) اس دروازے پر تراشے گئے شیروں کے مجسمے ہِتّی سنگ تراشی کا شاندار نمونہ ہیں۔ بادشاہ کا دروازہ (King's Gate) یہ بھی اپنی نفیس سنگ تراشی اور تعمیراتی ساخت کے باعث نمایاں ہے۔ اسفنکس گیٹ (Sphinx Gate) یہ ایک بلند مصنوعی پشتے پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس تک سیڑھیوں کے ذریعے پہنچا جاتا تھا۔ ان تعمیرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہِتّی حکمران صرف جنگی طاقت پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ شہری منصوبہ بندی اور دفاعی فنِ تعمیر میں بھی غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔
ہاتوشا صرف شاہی دارالحکومت نہیں تھا بلکہ ایک اہم مذہبی مرکز بھی تھا۔ زیریں شہر میں موجود عظیم مندر (Great Temple) تیرہویں صدی قبل مسیح کا اہم ترین مذہبی ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے۔ بالائی شہر میں بھی متعدد مذہبی عمارات اور مندر موجود تھے۔ ہِتّی مذہبی نظام میں مختلف دیوتاؤں اور دیویوں کی عبادت کی جاتی تھی اور اس مذہبی تنوع میں حوری تہذیب کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ دارالحکومت سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر یازیلی کایا (Yazılıkaya) نامی چٹانی عبادت گاہ ہِتّی مذہبی فن کا ایک غیر معمولی نمونہ ہے۔ قدرتی چٹانوں پر تراشے گئے دیوتاؤں اور دیویوں کے نقوش آج بھی موجود ہیں۔ یونیسکو کے مطابق یازیلی کایا کے چٹانی نقوش ہِتّی فن کے سب سے نمایاں نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہاتوشا کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت اس کے میخی تحریری ریکارڈ ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو یہاں ہزاروں مٹی کی تختیاں ملیں جن پر میخی رسم الخط میں تحریریں موجود تھیں۔ ان میں سرکاری معاملات، قوانین، مذہبی رسومات، سفارتی تعلقات، جنگوں، معاہدوں اور انتظامی امور سمیت زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ریکارڈ محفوظ ہیں۔ یونیسکو کے مطابق بوغازکوی/ہاتوشا سے ملنے والی میخی تختیوں کا یہ ذخیرہ 2001ء میں Memory of the World Register میں شامل کیا گیا۔ یہ تختیاں اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں کہ ان کی مدد سے ہِتّی سلطنت کی سیاسی اور سماجی تاریخ کو محض آثارِ قدیمہ نہیں بلکہ تحریری شواہد کی بنیاد پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ہاتوشا کا نام قدیم دنیا کی سفارت کاری کی تاریخ میں بھی نمایاں ہے۔ تقریباً 1274 قبل مسیح میں قادش کے مقام پر مصر کے فرعون رامسیس دوم اور ہِتّی بادشاہ مواٹلی دوم کے درمیان جنگ ہوئی۔ بعد میں دونوں سلطنتوں کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ ہِتّی بادشاہ حتوشیلی سوم (Hattušili III) اور رامسیس دوم کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ قدیم دنیا کے معروف ترین امن معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے کی ہِتّی تحریر ہاتوشا سے ملنے والی مٹی کی تختیوں میں محفوظ ہوئی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ چار ہزار سال پہلے کی ریاستیں صرف جنگ کے ذریعے اپنے مسائل حل نہیں کرتی تھیں بلکہ سفارت کاری، معاہدوں اور باہمی سیاسی مفادات کو بھی اہمیت دیتی تھیں۔
ہر عظیم سلطنت کی طرح ہِتّی سلطنت بھی ہمیشہ قائم نہ رہ سکی۔ بارہویں صدی قبل مسیح کے آس پاس ہِتّی ریاست شدید سیاسی، عسکری اور معاشی مشکلات سے دوچار ہوئی۔ اس دور میں مشرقی بحیرہ روم اور اناطولیہ کی متعدد ریاستیں بھی بحرانوں کا شکار ہوئیں۔ بالآخر ہاتوشا کا وہ سیاسی کردار ختم ہوگیا جس نے اسے صدیوں تک ہِتّی سلطنت کا مرکز بنائے رکھا۔ لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ شہر کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ اس کے کھنڈرات نے ہزاروں سال بعد دوبارہ دنیا کی توجہ حاصل کی۔ ہاتوشا کے آثار جدید دور میں 1834ء میں فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ چارلس ٹیکسیئر نے دریافت کیے۔ بعد ازاں 1906ء سے یہاں باقاعدہ اور منظم کھدائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ آثارِ قدیمہ کی تحقیق نے آہستہ آہستہ ایک ایسی تہذیب کو دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس کا نام صدیوں تک تاریخ کے دھندلے پردوں میں چھپا رہا تھا۔ میخی تختیوں کے مطالعے سے ہِتّی زبان اور ریاستی نظام کے بارے میں بھی اہم معلومات سامنے آئیں۔ یوں ہاتوشا صرف ایک آثارِ قدیمہ کا مقام نہیں رہا بلکہ قدیم مشرقِ قریب کی تاریخ کو سمجھنے کی ایک بنیادی کنجی بن گیا ہے۔
ہاتوشا کو 1986ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا۔ یونیسکو نے اس کی شہری منصوبہ بندی، مندر، شاہی رہائش گاہیں، دفاعی فصیلیں، شیر اور شاہی دروازے اور یازیلی کایا کے چٹانی فن پاروں کو اس کی غیر معمولی عالمی اہمیت کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ مقام آج ہمیں بتاتا ہے کہ جدید شہری منصوبہ بندی، ریاستی انتظام، سفارت کاری اور تحریری قانون کی جڑیں کتنی قدیم ہیں۔ ہاتوشا کے کھنڈرات کو دیکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال ذہن میں آتا ہے: آخر ایک طاقتور سلطنت ختم کیوں ہوجاتی ہے؟ ہِتّی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ محض مضبوط فوج کسی ریاست کی دائمی بقا کی ضمانت نہیں ہوتی۔ سیاسی استحکام، معاشی وسائل، سفارت کاری، انتظامی صلاحیت اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات سے مطابقت بھی ریاست کی بقا کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہاتوشا کی خاموش دیواریں آج بھی ایک ایسی تہذیب کی گواہی دیتی ہیں جو کبھی اناطولیہ کی بڑی طاقت تھی۔ اس کے شیر کے دروازے، عظیم مندر، شاہی عمارات، چٹانی نقوش اور مٹی کی تختیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ انسانی تہذیب کی ترقی صرف جدید دور کا مظہر نہیں۔ چار ہزار سال پہلے بھی انسان شہر تعمیر کرتا تھا، سلطنتیں چلاتا تھا، قوانین مرتب کرتا تھا، جنگیں لڑتا تھا اور پھر امن کے معاہدے بھی کرتا تھا۔ شاید یہی ہاتوشا کا سب سے بڑا تاریخی پیغام ہے کہ سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، مگر انسان کے علم، فن، تحریر اور تہذیبی ورثے کے نقوش صدیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔