ایمرجنسی کے باوجود سابق وزراء کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیاں واپس نہ ہو سکیں

image

 پشاور: (نیوز ڈیسک) ذرائع کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق وزراء کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہیں لی گئیں، جبکہ بعض سابق وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کے پاس تین سے چار سرکاری گاڑیاں ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورتِ حال نے سرکاری گاڑیوں کی تقسیم، استعمال اور واپسی کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔ تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی تفصیلات دستیاب نہیں۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، ایسے میں سابق حکومتی عہدیداروں کے پاس سرکاری گاڑیوں کی موجودگی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اگر سابق وزراء اور دیگر سابق عہدیدار سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں تو ان کے استعمال کی قانونی و انتظامی بنیاد، متعلقہ قواعد اور اجازت ناموں کی حیثیت واضح ہونا ضروری ہے۔ تاہم گاڑیوں کی تعداد، ان کے استعمال کی موجودہ نوعیت اور متعلقہ قواعد کی پابندی کے بارے میں آزادانہ تصدیق درکار ہے۔

 معاملے پر متعلقہ صوبائی حکومت، محکمۂ انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ یا متعلقہ سرکاری اداروں کا مؤقف اہمیت رکھتا ہے۔ حکام کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آنا ضروری ہے کہ سابق وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کو سرکاری گاڑیاں کس ضابطے کے تحت فراہم کی گئی ہیں، آیا ان گاڑیوں کی واپسی کے لیے کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ان پر عمل درآمد کی صورتِ حال کیا ہے۔ سرکاری سطح پر تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی مکمل نوعیت اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔    


#NationalNews
#14thoct 2026
#KPK
#Government
#Emerjency
#Parlement
#FedralGovt
#TVN
#News
#TVNUrdu
#TVNNational 
#TheViewsNetwork