امریکا میں مڈٹرم الیکشن کا معاملہ سنگین ہو گیا
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں مڈٹرم الیکشن کی ووٹنگ ڈاک کے ذریعے کروانے ث معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ صدارتی حکم نامے کے خلاف واشنگٹن ڈی سی اور 23 ڈیموکریٹ ریاستوں نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے صدارتی حکم کو فوری معطل کرنے کی اپیل کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتخابی قوانین مرتب کرنا کانگریس اور متعلقہ ریاستوں کا آئینی اختیار ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ الیکشن سے قبل ووٹنگ قوانین میں اچانک تبدیلی سے مسائل پیدا ہوں گے۔ ان اقدامات سے لاکھوں شہریوں کے ووٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نامکمل ڈیٹا کی وجہ سے اہل ووٹرز کو وقت پر بیلٹ نہیں مل سکیں گے۔ یو ایس پوسٹل سروس کے پاس اتنے کم وقت میں نیا اور پیچیدہ نظام نافذ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی 12 ریپبلکن ریاستوں نے صدارتی حکم نامے کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اس حکم نامے کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ انتخابی عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔ امریکی سپریم کورٹ میں دونوں جانب سے دائر کی جانے والی ان درخواستوں کے بعد قانونی و سیاسی معرکہ شدید تر ہو گیا ہے۔ عدالتی فیصلے پر ہی مڈٹرم الیکشن کے شفاف ہونے کا انحصار ہو گا۔