روم مذاکرات کے بعد لبنان کا سخت مؤقف، تین مطالبات پر پیش رفت سے پہلے بات چیت سے انکار
روم: (ویب ڈیسک) اٹلی کے شہر روم میں لبنان اور ا۔س۔را۔ئی۔ل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے ساتویں مرحلے کے اختتام پر بیروت نے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کرلی ہے۔ لبنانی وفد سے قریبی ذرائع کے مطابق لبنان نے واضح کیا ہے کہ تین بنیادی امور پر خاطر خواہ پیش رفت کے بغیر وہ دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان مطالبات میں پورے لبنان میں فائر بندی، بنت جبیل اور خیام کو نئے آزمائشی علاقے کے طور پر شامل کرنا اور جنوبی لبنان میں ا۔س۔را۔ئی۔لی کارروائیوں کے دوران گھروں و زرعی املاک کی تباہی روکنا شامل ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ا۔س۔رائ۔یلی فوج نے ہفتے کے روز مغربی زوطر میں داخل ہو کر مٹی کا ایک بلند دفاعی حصار تعمیر کیا۔ مذکورہ علاقہ جون میں طے پانے والے لبنان ا۔س۔را۔ئی۔ل فریم ورک معاہدے کے تحت لبنانی فوج کے سپرد کیا جا چکا تھا، جبکہ لبنانی فورسز نے 21 جولائی کو وہاں اپنی پوزیشن قائم کی تھی۔ فریم ورک کے مطابق جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور دیگر مسلح گروہوں کی فوجی موجودگی ختم کرنے کے عمل کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔
امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کے ابتدائی پانچ ادوار کے بعد 26 جون کو فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں اس۔رائ۔یلی فوج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلاء اور مختلف آزمائشی علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی بھی شامل تھی۔ تاہم 6 اگست کو روم میں ہونے والے ساتویں دور میں اس۔ر۔ائی۔ل نے جنوبی لبنان سے انخلاء کیلئے ایک اضافی علاقے کے تعین سے متعلق لبنانی تجویز قبول نہیں کی۔ اس۔ر۔ائی۔ل کا کہنا ہے کہ مزید انخلاء سے پہلے ان علاقوں میں لبنانی فوج کے مکمل کنٹرول کی تصدیق ضروری ہے جہاں اس کی فورسز پہلے ہی تعینات ہوچکی ہیں۔