چین میں ایورگرینڈ کے بانی کو عمر قید

image

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین کی ایک عدالت نے پراپرٹی کمپنی ایورگرینڈ کے بانی ہوئی کایان کو مالی جرائم کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں کمپنی کے مالی وسائل کے غلط استعمال، فراڈ، غیر قانونی فنڈز اور رشوت سمیت متعدد سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ عدالت نے ان کی ذاتی جائیداد ضبط کرنے کے ساتھ کمپنی اور اس سے منسلک اداروں پر بھی اربوں ڈالر کے جرمانے عائد کیے ہیں۔

ہوئی کایان ایک وقت میں ایشیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں شمار ہوتے تھے اور 2017ء میں ان کی دولت تقریباً 45 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ ایورگرینڈ نے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرکے پراپرٹی منصوبوں کو وسعت دی، تاہم بڑھتے ہوئے قرضوں اور چین کی پراپرٹی مارکیٹ میں بحران نے کمپنی کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کردیا۔ کمپنی کے مجموعی واجبات تقریباً 300 ارب ڈالر تک پہنچ گئے اور اس کے بحران نے چین کے پراپرٹی شعبے سمیت مالیاتی نظام کو بھی متاثر کیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد بھی ایورگرینڈ کے متاثرہ خریداروں اور قرض خواہوں کیلئے سب سے بڑا سوال اپنی رقوم کی واپسی کا ہے۔ کمپنی کے اثاثے فروخت کرکے قرضوں کی ادائیگی کا عمل جاری ہے، لیکن واجبات اور دستیاب اثاثوں میں بڑے فرق کے باعث مکمل وصولی ایک مشکل اور طویل مرحلہ دکھائی دیتی ہے۔ ہوئی کایان کا انجام اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ حد سے زیادہ قرض پر مبنی تیز رفتار کاروباری توسیع کا بحران کمپنی، سرمایہ کاروں، صارفین اور پوری معیشت کو متاثر کرسکتا ہے۔