ایران سے تجارت پر امریکی دباؤ، کئی ممالک کو پابندیوں کا خدشہ

image


واشنگٹن: (ویب ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر غیر معمولی معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی دھمکی کے بعد ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک بھی ممکنہ امریکی ثانوی پابندیوں کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ جن میں سب سے نمایاں چین ہے جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ 2025ء میں چین نے اوسطاً روزانہ 13 لاکھ 80 ہزار بیرل ایرانی تیل درآمد کیا اور امریکا پہلے ہی ایک چینی ریفائنری پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ چینی بینکوں کو بھی ثانوی پابندیوں سے خبردار کرچکا ہے۔

ایران کے دیگر اہم تجارتی شراکت داروں میں متحدہ عرب امارات، ترکی، عراق اور عمان شامل ہیں۔ جہاں تجارت، توانائی اور مالی لین دین کے وسیع روابط موجود ہیں۔ تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ بعض مالی و اقتصادی لین دین عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عراق کے ساتھ دوطرفہ تجارت 2025ء میں 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی اور عمان کے ساتھ اشیا کی تجارت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر رہی ہے۔ دوسری جانب بھارت کی ایران کے ساتھ تجارت 2025-26ء میں کم ہوکر 1.63 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ آرمینیا و آذربائیجان بھی ایران کے علاقائی تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ ترکی بھی ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے۔

 پاکستان کیلئے بھی صورتحال خاصی اہم ہے کیونکہ اسلام آباد اور تہران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی تجارت تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے جبکہ تیل، گندم، چاول، مویشی اور ادویات کی تجارت بھی جاری ہے۔ ایسے میں ماہرین کے مطابق اگر امریکا نے نئی اور سخت پابندیاں عائد کیں تو ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو اپنے معاشی مفادات اور واشنگٹن کے دباؤ کے درمیان ایک مشکل اور حساس توازن برقرار رکھنا پڑے گا۔