افغانستان میں احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے نیا قانون نافذ

image


کابل: (ویب ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت نے احتجاجی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت ملک بھر میں کسی بھی قسم کے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون اسلامی قوانین کے مطابق ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

طالبان حکومت نے ملک میں احتجاج پر پابندی عائد کرنے والے نئے قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون مکمل طور پر اسلامی قوانین کے مطابق ہے۔ اسلام میں احتجاج کا کوئی تصور موجود نہیں، احتجاج صرف ان معاشروں میں ہوتے ہیں جہاں جمہوریت یا ریپبلکن نظام جیسے مختلف قوانین نافذ ہوں۔ احتجاجی مظاہروں سے عوام کا قیمتی وقت برباد ہوتا ہے اور نجی املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت نے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہو گی۔ اس قانون کے خلاف ہیومن رائٹس واچ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے اختلافِ رائے دبانے کی ایک اور ظالمانہ کوشش قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس شق کو افغانستان میں انسانی حقوق پر ایک اور سنگین حملہ قرار دیا ہے۔