نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں طلباء کیلئے اے آئی پر نئی پابندیاں
نیویارک: (ویب ڈیسک) نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک کے طلبا کیلئے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ تقریباً نو لاکھ طلباء پر مشتمل امریکا کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت تیسری جماعت تک کے بچوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کے استعمال سے بھی بڑی حد تک دور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس اقدام کے پس منظر میں والدین اور اساتذہ کے وہ تحفظات شامل ہیں جن میں بچوں کی ذہنی صحت، ادراکی نشوونما اور ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کے خدشات نمایاں ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق طلباء کو اے آئی استعمال کرنے کی اجازت صرف مخصوص تعلیمی مقاصد، بالخصوص ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھنے کیلئے دی جائے گی۔ نفسیاتی معاونت فراہم کرنے والے اے آئی چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ اساتذہ سبق تیار کرنے اور انتظامی پیغامات لکھنے کیلئے اے آئی استعمال کر سکیں گے، لیکن اسائنمنٹس کی گریڈنگ کیلئے نہیں۔
محکمۂ تعلیم نے مڈل اسکول کے طلباء کیلئے کلاس روم میں اسکرین ٹائم زیادہ سے زیادہ 45 منٹ اور ابتدائی جماعتوں کیلئے 30 منٹ تک محدود کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ اس سے قبل 2023ء میں چیٹ جی پی ٹی پر پابندی عائد کی گئی تھی جسے بعد میں ختم کر دیا گیا، جبکہ رواں سال جاری کیے گئے نئے اے آئی فریم ورک پر والدین اور اساتذہ کی جانب سے تنقید سامنے آئی تھی۔ اب اساتذہ، منتخب نمائندوں، ماہرین اور یونین نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس، اپریل میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی سفارشات نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں مستقبل کی اے آئی پالیسی کی بنیاد بنیں گی۔