واشنگٹن، بیجنگ میں تجارتی کشیدگی کم کرنے پر پیش رفت

image


بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین اور امریکا نے باہمی تجارت میں 30 ارب ڈالر کے ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معاملے پر باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کرلیا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اتفاق رائے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے دوران ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے 8 نکاتی سمجھوتے کا حصہ ہے۔ دونوں ملکوں نے اقتصادی ماہرین اور مذاکراتی ٹیموں کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے تجارتی کونسل کے قیام اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے نتائج کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

امریکا اور چین نے تجارتی جنگ میں عارضی وقفے کو مزید دو ماہ تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جو پہلے 10 نومبر کو ختم ہونا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق توسیع سے دونوں ملکوں کو بڑے تجارتی معاہدے پر مزید بات چیت کا وقت ملے گا۔ تین روزہ ملاقاتوں کے دوران شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارت، اے آئی، عالمی امور اور باہمی رابطوں کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا، جس کے بعد چینی صدر بیجنگ واپس پہنچ گئے۔

دونوں ملکوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر بات چیت کیلئے نیا مذاکراتی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا اگلا دور نومبر میں ہوگا، جبکہ کسی بڑے اے آئی واقعے کی صورت میں فوری رابطے کیلئے مواصلاتی چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ شی جن پنگ نے اے آئی کے شعبے میں مقابلے کے ساتھ تعاون، خطرات و فوائد پر مسلسل بات چیت اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے اے پی ای سی اور جی 20 اجلاسوں کی میزبانی کے معاملے میں ایک دوسرے کی حمایت، ان اجلاسوں میں شرکت، ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کی پاسداری اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ٹرانزٹ فیس عائد نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران دونوں ممالک کے اتحادی ہونے کی تاریخ کو بھی یاد کیا۔