بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف کانگریس کا احتجاجی محاذ
نیو دہلی:(ویب ڈیسک) بھارت میں ووٹر فہرستوں اور انتخابی عمل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مہم تیز کر دی ہے، جبکہ پارٹی نے ان کے خلاف کارروائی اور عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران ایسے اقدامات کیے گئے جن سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان الزامات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال کے مطابق پارٹی کی تمام ریاستی کانگریس کمیٹیوں کو 25 ستمبر کو ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے، ان کی گرفتاری اور ان کے دور میں کیے گئے فیصلوں سمیت ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ احتجاج کا دوسرا مرحلہ 28 ستمبر کو ضلعی سطح پر ہوگا، جہاں ضلعی کمیٹیاں کلکٹریٹس تک مارچ کریں گی۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں ووٹر رجسٹریشن، ناموں کے اخراج اور انتخابی اعداد و شمار تک رسائی سے متعلق بعض معاملات پر الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے اعتراضات کا ذکر سامنے آیا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر قائدین ان معاملات کو انتخابی شفافیت سے جوڑتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، تاہم ان کے الزامات اور سیاسی دعووں کو متعلقہ اداروں کی جانب سے حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے اقدامات اور ووٹر فہرستوں سے متعلق اصل حقائق جانچنے کے لیے سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔