فرانس میں طلباء کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

image


پیرس: (ویب ڈیسک) فرانس میں تعلیمی اداروں کی خراب صورتحال، اساتذہ کی کمی اور کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔ فرانس کے کئی شہروں میں مظاہرین نے اسکولوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور بعض مقامات پر آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ حکام کے مطابق سنگین صورتحال کے باعث تقریباً 400 اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔

مارسیلے میں ایک اسکول کے قریب پٹرول پھینکے جانے کے واقعے میں اساتذہ متاثر ہوئے جبکہ ایک فائر بریگیڈ گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔ نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی اسکولوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے احتجاج کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ متعدد طلبہ، اساتذہ اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فرانس کے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وزیر تعلیم ایڈوارڈ جیفری نے اسکولوں کی انتظامیہ کو احتجاج کے باعث عمارتوں تک رسائی ممکن نہ ہونے کی صورت میں آن لائن کلاسز کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے مسائل پر بات چیت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر تعلیم نے طلبہ، والدین اور تعلیمی عملے کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔