غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے٬ نوی پلے

image

جنیوا: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کھلی نسل کشی ہو رہی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق العربی ٹی وی کو انٹرویو میں نوی پلے نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم انتہائی سنگین ہیں اور نسل کشی کے درجے تک پہنچ چکے ہیں، جیسا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق مستقل بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے بھی حتمی طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا تھا، جس کی وہ خود سربراہ رہ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسئلہ فلسطین سے دستبردار نہیں ہوئیں اور غزہ و مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم کی تحقیقات، دستاویزی ثبوت جمع کرنے اور اقوام متحدہ سمیت تمام بااختیار عالمی اداروں کو باخبر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سیاسی قوت نہیں لیکن حق کی اخلاقی طاقت ہے، دنیا سے مطالبہ ہے کہ اسرائیلی مظالم کو روکا جائے اور فلسطینیوں کو تحفظ دیا جائے، جبکہ اسرائیلی رہنما بین الاقوامی قانون سے باہر ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں اور عالمی برادری مفلوج دکھائی دے رہی ہے۔

نوی پلے نے سلامتی کونسل میں ویٹو کے استعمال اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکا کی پابندیوں کو ظالمانہ اور ناانصافی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی اور عالمی عدل و انصاف کو مستحکم کرنے اور استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی جانب سے انہیں نوبل انعام دینے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے زہریلے بیانات انہیں انسانی حقوق کے سفر سے نہیں روک سکتے، انہوں نے جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ کے خلاف جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سیاسی ایجنڈوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ان کا تحقیقاتی کمیشن بدستور کام جاری رکھے ہوئے ہے۔


#International News
#15thOct2026
#GazaGenocide 
#NaviPillay 
#UNHumanRights 
#Palestine 
#IsraeliCrimes 
#WestBank 
#ICC 
#UNSC 
#Veto
#TVN
#News 
#TVNNews
#TVNUrdu
#TVNWorld
#TheViewsNetwork