بھارت میں ووٹر لسٹوں سے نام خارج ہونے پر احتجاج، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ

image


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت میں ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج جاری ہے، جو دیگر شہروں تک بھی پھیل رہا ہے۔ کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق ووٹر لسٹوں سے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہوا، جس نے مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں پہلی مرتبہ اکثریت حاصل کی۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اہل ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا اور مسلم ووٹرز اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، تاہم بی جے پی اور انتخابی ادارے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بھارت بھر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی جاری ہے، جس کے تحت گھر گھر جاکر ووٹروں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ فہرستوں کو اپ ڈیٹ کیا جاسکے اور دہری رجسٹریشن یا نااہل ووٹروں کے نام نکالے جاسکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی نظام میں مقامی سطح پر غلطیاں درست کرنے کے مواقع محدود ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد کے نام خارج ہوئے یا انہیں اپنی دستاویزات تلاش کرنے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے پینل میں شامل دو ساتھیوں نے دس ماہ کے دوران ووٹر فہرستوں، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام پر کم از کم 14 باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خصوصی نظرثانی عمل، یعنی ایس آئی آر، کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے درست ووٹر فہرستیں ضروری ہیں، تاہم انتخابی پینل شہریت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ووٹروں کے نام من مانے طریقے سے خارج کرنے اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات پر دوبارہ عدالت سے رجوع کیا، جبکہ الیکشن کمیشن نے یکم اکتوبر کو حکام کو خارج کیے گئے ووٹروں کی نشاندہی اور ان کے دوبارہ اندراج کی راہ ہموار کرنے کی ہدایت دی۔