جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے 2D بارکوڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ
سلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے سربراہان نے شرکت کی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ نے وزیر صحت کو ادویات پر 2D بارکوڈ اور سیریلائزیشن کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وزارت صحت نے ملک بھر سے جعلی ادویات کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس نظام پر ڈیڑھ سال سے کام جاری ہے۔
وزارت صحت کے مطابق 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ہر دوا پر 2D بارکوڈ درج کرنا لازمی ہوگا، جبکہ مقامی اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کو ادویات پر بارکوڈ اور سیریل نمبر درج کرنے کی پابندی کرنا ہوگی۔ درآمدی ادویات کی فروخت کے لیے بھی بارکوڈ کا نظام لاگو ہوگا۔ ڈریپ نے دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی تربیت مکمل کر لی ہے، جبکہ فارمیسیوں، میڈیکل اسٹورز اور شہریوں کو موبائل ایپ کے ذریعے ادویات کی تصدیق کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
موبائل ایپ کی مدد سے دوا کی اصلیت کے ساتھ اس کی قیمت اور میعادِ استعمال بھی معلوم کی جا سکے گی۔ حکام کے مطابق 2D بارکوڈ کا نظام ویٹرنری اور پولٹری ادویات پر بھی نافذ ہوگا، کیونکہ جانوروں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی انسانی صحت سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ادویات کی شناخت اور نگرانی کو بہتر بنانا اور جعلی ادویات کی روک تھام میں مدد دینا ہے۔
#HealthNews
#15thOct2026
#FakeMedicines
#2DBarcode
#DRAP
#HealthMinistry
#MedicineSafety
#TVN
#News
#TVNUrdu
#TVNHealth
#TheViewsNetwork