یوکرین کیلئے اسٹارشیلڈ سروس محدود کرنے کا حکم وائٹ ہاؤس سے آنے کا انکشاف
واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکی اور مغربی عہدیداروں کے مطابق، یوکرینی فوج کیلئے اسپیس ایکس کے فوجی سیٹلائٹ نظام اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کرنے کا حکم وائٹ ہاؤس سے دیا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں اپنی انتظامیہ کے کردار کی تردید کی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی اور مغربی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی محکمۂ دفاع کے اعلیٰ حکام کو یوکرین کیلئے اس نظام کی فعالیت محدود کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم فیصلے کے ذمہ دار شخص کی شناخت سامنے نہیں آسکی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نہ انہوں نے ایسا کوئی حکم دیا اور نہ ہی ان کے خیال میں اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اس اقدام میں ملوث تھے۔
رپورٹس کے مطابق، اسٹارشیلڈ اور اسٹارلنک کی خدمات متاثر ہونے سے یوکرینی فوج کی ڈرون آپریشنز، جاسوسی اور روسی اہداف پر حملوں کی صلاحیت کو نقصان پہنچا، جبکہ روسی حملہ آور ڈرونز کو روکنے کیلئے استعمال ہونے والے دفاعی ڈرونز کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق، فوجی سیٹلائٹ ریسیورز تیز رفتار حرکت کرنے والے ڈرونز پر کام کرنا بند کر گئے تھے، تاہم بعد میں ان کی فعالیت جزوی طور پر بحال ہوگئی اور رفتار سے متعلق حدود برقرار رہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ ان پابندیوں کے باعث یوکرین کی روسی ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت تقریباً 24 گھنٹے تک متاثر رہی۔
سیٹلائٹ خدمات محدود کیے جانے کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روسی تیل کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں اور روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے پر واشنگٹن اور کیف کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی حکام نے یوکرین پر روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا تھا، جبکہ صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے پر تنقید کی تھی۔ اس صورتِ حال نے یوکرین میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکا کے زیرِ کنٹرول اہم فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی سیاسی اختلافات کے باعث متاثر ہوسکتی ہے، اگرچہ پابندیوں کے فیصلے کی ذمہ داری کے حوالے سے امریکی اور یوکرینی مؤقف مختلف ہیں۔