ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کے حل کے لیے معاونت کو تیار

image

تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ فوجی طریقۂ کار پر اصرار اور سیاسی حل کو نظرانداز کرنے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بحرانوں کا پائیدار حل فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت شروع کرانے اور سیاسی تصفیے کے لیے معاونت کی پیشکش بھی کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یمن کے تنازع میں طویل تعطل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی جزیرہ نمائے عرب کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان دشمنی جاری نہیں رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق خطہ پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور سعودی اتحادی افواج کی جوابی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ سعودی حکام سے منسوب بیان کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں 12 سے 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 11 اکتوبر کو ایک اور حملے کی اطلاع دی گئی۔ ایران نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے۔

#InternationalNews
#17thOct2026
#Iran 
#SaudiArabia
 #YemenConflict
 #AbbasAraghchi
 #MiddleEast
#TVN
#News
#TVNUrdu
#TVNWorld
#TheViewsNetwork