ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم

image

ایڈمنٹن: (ویب ڈیسک) کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے دوران 23 ہزار سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے، جبکہ منتظمین کے مطابق عالمی مبصرین بھی ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے موجود تھے۔ شرکاء نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ بھارتی پرچم پھاڑے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔

سکھز فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے آن لائن خطاب میں شرکاء سے متحد رہنے اور بھارتی پنجاب کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھ قوم شہادتوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہردیپ سنگھ نجر سمیت دیگر سکھ رہنماؤں کے قتل کا جواب گولی کے بجائے ووٹ کے ذریعے دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سکھ برادری کے عزم اور جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔

منتظمین کے مطابق یکم نومبر سے خالصتان ریفرنڈم کے لیے 20 لاکھ نئے ووٹرز کے اندراج کی ملک گیر مہم شروع کی جائے گی۔ ایڈمنٹن میں ریفرنڈم کے انعقاد کے بعد اس کا اگلا مرحلہ مارچ 2027ء میں آسٹریلیا میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ منتظمین کو توقع ہے کہ آسٹریلیا میں ہونے والے مرحلے میں بھی سکھ برادری کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔