تدریس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر آئی بی اے کراچی میں اہم سمپوزیم

image


کراچی: (نیوز ڈیسک) آئی بی اے کراچی کے مین کیمپس میں ’’تدریس میں مصنوعی ذہانت کا کردار‘‘ کے موضوع پر سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں کراچی، ملک کے دیگر شہروں اور بیرونِ ملک سے تعلیمی رہنماؤں، اساتذہ، محققین اور تدریسی ماہرین نے شرکت کی ہے۔ افتتاحی کلمات میں کانفرنس چیئر اور آئی بی اے کراچی کے آفس آف اکیڈمک کوالٹی اینڈ ایکسیلینس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ثنا توصیف نے تعلیم پر مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنے کیلئے تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون کو اہم قرار۔ آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے ڈین ڈاکٹر فرید پنجوانی نے سمپوزیم کو تدریس اور تعلیم کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششوں میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔

سمپوزیم میں ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں آج اور کل کی تدریس، جامعات کو کیا ترک کرنا، کیا شروع کرنا اور کیا جاری رکھنا چاہیے؟‘‘ کے عنوان سے پینل مباحثہ ہوا، مباحثے میں آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین، حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف رضوی، دربین کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمیٰ اسلم اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید ڈبلیو یوسف شریک ہوئے۔ اس موقع پر آئی بی اے کراچی، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی کے درمیان تدریس و تعلیم میں جدت اور علمی تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔

یونیورسٹی آف اوسلو، ناروے کی پروفیسر ڈاکٹر فضیلت صدیق نے کلیدی خطاب میں ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ اور خودمختارانہ فیصلہ سازی، کیا اعلیٰ تعلیم پر ازسرِنو غور کرنے کا وقت آ گیا ہے؟‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا اور تنقیدی سوچ، طلبہ کی خودمختاری اور تکنیکی، تدریسی و موضوعاتی علم کی اہمیت اجاگر کی۔ تقریب میں انٹرایکٹو سیشنز، ایڈٹیک انوویشن شوکیس، ویژول وائسز اور طلبہ کی خصوصی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔ سمپوزیم کا اختتام تقسیمِ انعامات اور آغا خان یونیورسٹی کی وائس پرووسٹ برائے کوالٹی، ٹیچنگ اینڈ لرننگ ڈاکٹر جین رارییا اور حبیب یونیورسٹی کے نائب صدر برائے تعلیمی امور ڈاکٹر محمد شاہد شیخ کے اختتامی کلمات سے ہوا۔