ایران کی دھمکی: حملہ ہوا تو 9 ممالک کی توانائی تنصیبات نشانے پر ہیں

image


تہران: (ویب ڈیسک) ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کیے گئے تو جوابی کارروائی میں 9 ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قطر کے راس لفان میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تنصیب پر ایرانی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے تھے۔ مذکورہ حملے کے بعد توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور رسد متاثر ہونے کے خدشات نے بھی جنم لیا تھا۔

ڈاکٹر محمد مخبر نے اپنے خطاب میں آبنائے ہرمز سے دستبردار ہونے کی تجویز پر بھی بات کی اور کہا کہ بعض حلقے ملک کے دیگر علاقوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ایسا کرنے کے حامی ہیں۔ ایران نے اس سے قبل جنوبی پارس کی توانائی تنصیبات پر حملے کے جواب میں قطر کے راس لفان گیس کمپلیکس کو نشانہ بنایا تھا، جس پر قطری حکام نے سخت احتجاج کیا تھا۔ اس واقعے نے خطے میں توانائی کی سلامتی اور عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے 18 اکتوبر کو خبردار کیا کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اس۔ر۔ائی۔ل کے خلاف شدید جوابی کارروائی کی جائے گی۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اس۔را۔ئی۔ل کی کسی مخصوص تنصیب یا ممکنہ حملے کے وقت کی تفصیل نہیں دی گئی، جبکہ ایران کی توانائی تنصیبات پر نئے حملے کی تصدیق بھی نہیں کی گئی۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ جوابی کارروائی کی صورت میں مقبوضہ علاقوں کو ’’جلتا ہوا خطہ‘‘ بنا دیا جائے گا۔