کیا اے آئی آپ کی یاداشت کو بدل رہا ہے؟
واشنگٹن: (ٹیکنالوجی ڈیسک) زرا سوچیں کہ آپ نے کل ایک تصویر دیکھی اور آج اے آئی نے اسی تصویر کو تھوڑا سا بدل کر آپ کو دکھا دیا، تو آپ کا دماغ فوراً مان گیا کہ اصلی والی تصویر تو یہی نئی والی تھی۔ اصل میں یہی کچھ ہو رہا ہے اے آئی استعمال کرنے والوں کے ساتھ۔ جو لوگ اے آئی چیٹ بوٹ سے مدد لیتے ہیں، وہ عام لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ غلط باتوں کو سچ سمجھ کر یاد رکھتے ہیں۔
امریکی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی نئی تحقیق نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کچھ لوگوں کو اصلی تصویریں دکھائیں، کچھ دیر بعد آدھے لوگوں کو وہی اصلی تصویریں دوبارہ دکھائی، اور آدھے لوگوں کو اے آئی سے بدلی ہوئی جعلی تصویریں دکھائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جعلی تصویریں دیکھنے والے اپنی اصلی یادداشت ہی بھول بیٹھے، اور جھوٹ کو سچ سمجھ کر اس پر ڈٹ گئے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، ایک اور تجربے میں لوگوں نے ایک ویڈیو دیکھی، پھر اے آئی کا لکھا ہوا غلط خلاصہ پڑھا۔ صرف ایک ٹریفک سائن جیسی چھوٹی سی چیز کو صحیح یاد رکھنے والے لوگوں میں 83 فیصد سے کم ہو کر 44 فیصد لوگ باقی بچ گئے، یعنی آدھے لوگوں کا دماغ ہی بدل گیا۔ سب سے ڈراؤنی بات یہ ہے کہ اگر لوگوں کو پہلے سے بتا بھی دیا جائے کہ "یہ اے آئی نے بنایا ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے" لیکن پھر بھی دماغ دھوکہ کھا جاتا ہے۔ کیونکہ اے آئی جھوٹ بھی اتنے اعتماد سے بولتا ہے کہ سچ لگنے لگتا ہے۔ اسی کو ماہرین ہیلوسینیشن کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ صرف یادداشت کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران میں ایک اسکول پر حملے میں 150 سے زائد لوگ مارے گئے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع کی ایک داخلی تحقیقات میں بتایا گیا کہ اس حملے کی وجوہات میں پالانٹیر کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظام پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی شامل تھا۔ یہ نظام پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر اسکول کو ہدف قرار دینے کی سفارش کرنے کا سبب بنا۔
ایم آئی ٹی میڈیا لیب کی ایک اور تحقیق میں سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ سے سوالات کے جواب دینے والے افراد نے ان لوگوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ غلط یادیں بیان کیں، جنہوں نے چیٹ بوٹ کے ساتھ کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔ انسان کا دماغ ویسے بھی بھولتا ہے، لیکن اے آئی اس بھولنے کو 3 گنا تیز اور خطرناک بنا رہا ہے۔