چین اور امریکا کے درمیان بحیرہء جنوبی چین میں کشیدگی بڑھ گئی
بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے بحیرہء جنوبی چین کے متنازع علاقے سبینا شول کے قریب امریکی جنگی بحری جہاز کی موجودگی پر ردعمل دیتے ہوئے اس کی نگرانی کیلئے بحری دستے روانہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ چینی فوج کی سدرن تھیٹر کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ کا جہاز یو ایس ایس چارلسٹن منگل کی صبح چین کی اجازت کے بغیر جزائر اسپراٹلی کے قریب سمندری حدود میں داخل ہوا۔ چین نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکا سے ایسی سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی بحریہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ امریکا عموماً ایسے بحری مشنز کو سمندری حدود میں آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے منسلک قرار دیتا ہے، جبکہ فلپائن کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی جہاز نے چینی حدود میں دراندازی نہیں کی۔ ترجمان کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں قانونی طور پر سفر کرنے کے لیے کسی ملک سے پیشگی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔
دوسری جانب تائیوان نے بھی بحیرہء جنوبی چین کے شمالی حصے میں پراٹاس جزائر کے قریب ایک چینی جہاز کے ساتھ محاذ آرائی کا دعویٰ کیا ہے۔ چین اور فلپائن دونوں سبینا شول سمیت جزائر اسپراٹلی کے علاقے پر خودمختاری کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ فلپائن اور امریکا کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ بحیرہء جنوبی چین میں بحری سرگرمیوں اور علاقائی دعوؤں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔