آسٹیوپوروسس: کمر درد اور جھکا ہوا جسم ہڈیوں کی کمزوری کی علامت

image


اسلام آباد: (ویب ڈیسک) آسٹیوپوروسس ہڈیوں کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیوں کی کثافت اور مضبوطی کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث وہ کمزور اور بھربھری ہو جاتی ہیں۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات اکثر واضح نہیں ہوتیں اور بعض افراد کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب معمولی چوٹ یا گرنے سے ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ کلائی، کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں فریکچر اس بیماری کے ممکنہ نتائج میں شامل ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کمر کے اوپری حصے میں اچانک درد، قد میں کمی اور جسم کا آگے کی طرف جھک جانا آسٹیوپوروسس کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے کمزور مہرے دبنے یا ان میں فریکچر ہونے سے جسمانی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ خواتین میں سنِ یاس کے بعد ہارمونز کی تبدیلی بھی ہڈیوں کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی، جسمانی سرگرمی کا فقدان، کم وزن اور بعض ادویات کا طویل استعمال بھی خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور متوازن غذا، مناسب ورزش اور محفوظ طرزِ زندگی اہم ہیں۔ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر ہڈیوں کی کثافت جانچنے کے لیے ڈیکسا اسکین تجویز کر سکتا ہے، جس سے بیماری کی تشخیص اور فریکچر کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مسلسل یا اچانک کمر درد، قد میں غیر معمولی کمی اور جسمانی ساخت میں تبدیلی کو محض بڑھتی عمر کا اثر نہ سمجھا جائے بلکہ بروقت طبی معائنہ کرایا جائے۔