بھارتی دفاعی خریداری میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) معروف بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایک بھارتی دفاعی کمپنی کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات نے 2000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 10 اہم فوجی معاہدوں کو سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کی انتظامیہ نے محض 500 کروڑ روپے مالیت کا ایک معاہدہ حاصل کرنے کیلئے ایک سرکاری عہدیدار کو بھاری رشوت دی تھی۔ یہ معاملہ بھارتی دفاعی خریداری کے نظام میں شفافیت، احتساب اور نگرانی کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
زیرِ تفتیش کمپنی بھارتی فوج کو گولہ بارود، حملہ آور اور نگرانی کے ڈرونز سمیت جدید حفاظتی آلات فراہم کرتی رہی ہے، جس کے باعث اس اسکینڈل کے اثرات دفاعی تیاریوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اگر تحقیقات کے نتیجے میں متعلقہ معاہدے منسوخ ہوتے ہیں تو فوج کو ضروری ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی بروقت فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے دفاعی اخراجات کے مؤثر استعمال اور قومی سلامتی سے متعلق منصوبوں میں شفافیت کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اس اسکینڈل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک سینئر بھارتی صحافی نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سیاسی مقاصد اور فوجی طاقت کے تشہیری بیانیے کو ترجیح دینے سے دفاعی وسائل کے ضیاع کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق، دفاعی شعبے میں بدعنوانی کے الزامات نہ صرف سرکاری اداروں کی ساکھ متاثر کرتے ہیں بلکہ فوج کی عملی صلاحیتوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی حتمی حقیقت اور ذمہ داران کا تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔