اسلام آباد ہائی کورٹ کا آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کا حکم

image

اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے لیے موجودہ قوانین پر عملدرآمد کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے قانونی اقدامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پیمرا اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

عدالت نے وزارتِ آئی ٹی، پیمرا، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کا اجلاس بلانے کا حکم دیا ہے، جس میں قوانین پر عملدرآمد کی راہ میں حائل قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ متعلقہ اداروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے یا ان کی کیا تجاویز ہیں، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان ضروری رابطہ کاری کے امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ عدالت نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالتی حکم نامے میں پی ٹی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستان کے دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 59.1 فیصد، دہشت گردی سے متعلق مواد کی 79.51 فیصد، عظمتِ اسلام کے خلاف مواد کی 76.54 فیصد اور شائستگی و اخلاقیات سے متعلق مواد کی 98.91 فیصد رہی۔ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد بلاک کرنے کی شرح 64.43 فیصد بتائی گئی۔ پلیٹ فارمز کے حوالے سے ٹوئٹر پر 48.42، فیس بک پر 78.57، انسٹاگرام پر 79.52، یوٹیوب پر 87.34 اور ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد مواد بلاک کرایا گیا۔ عدالت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی رجسٹریشن، شکایات کے ازالے کے لیے مقامی افسران کی عدم تعیناتی اور مواد ہٹانے کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے معاملات کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔


#NationalNews
#2ndNov2026
#IslamabadHighCourt
 #OnlineHarassment
 #CyberCrime #PTA
 #DigitalSafety
 #Pakistan
#TVN
#News
#TVNUrdu
#TVNNational 
#TheViewsNetwork