ترکیہ فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا: رجب طیب اردوان
ترک صدر کی فلسطینی ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس، ہم مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اقدامات کرے، اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ ترکیہ ملتوی ہو گیا ہے۔
انقرہ: (ویب ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ترک صدر نے منگل کے روز دارالحکومت انقرہ میں اپنے فلسطینی ہم منصب محمود عباس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی ہے۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینی کاز کی مضبوط ترین ممکنہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینیوں کی خوشحالی میں اضافے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی آباد کاروں کے تشدد پر گہری تشویش ہے۔ فلسطینی صدر اور ترک صدر کے درمیان صدارتی کمپلیکس میں دو طرفہ تعلقات، مسئلہ فلسطین، اسرائیل و دیگر علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کی گئی ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ ہم مقدس مقامات بالخصوص مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔
ترکیہ کے صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کا مسئلہ فلسطین میں مصروف عمل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پیرامیٹرز کی بنیاد پر 1967ء کی سرحدوں کے اندر مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہمارے پورے خطے کے امن اور استحکام کیلئے ضروری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم رواں ہفتے ترکیہ کا دورہ کرنے والے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا ترکیہ کا دورہ فی الحال ملتوی ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ انقرہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس میں مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے طور پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔