مذہبی کتب کی بے حرمتی کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور

image

پاکستان، مصر اور مراکش کی قیادت میں قرارداد جمع، مقدس کتب اور مقامات کی حرمت برقرار رکھنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ممبر ممالک نے قرارداد 62 اور 44 ووٹوں سے منظور کی۔

نیویارک: (ویب ڈیسک) پاکستان نے ملائیشیا اور مصر کے ساتھ مل کر قرارداد کی قیادت کی ہے جس کا مقصد مذہبی مقامات، نشانات اور مقدس کتابوں کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کی تمام کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مذہبی علامات، مقدس کتابوں، گھروں، کاروباروں، جائیدادوں، سکولوں، ثقافتی مراکز یا مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائیاں اور عبادت کے ساتھ ساتھ مذہبی مقامات اور مزارات اور ان پر ہونے والے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں جن کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپین نے اس پیرا گراف میں ترمیم جمع کرائی جس میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں کہے گئے الفاظ حذف کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اسپین کی پیش کردہ ترمیم کی مخالفت میں 62 اور حمایت میں 44 ووٹ پڑے جبکہ 24 اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ جنرل اسمبلی نے قرارداد کی شرائط کے تحت رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دینے اور اختلافات کے احترام اور قبولیت کو فروغ دیں تاکہ نفرت انگیز تقاریر کے پھیلاؤ کو مسترد کیا جا سکے۔

جنرل اسمبلی نے کسی کی بھی طرف سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک، عدم برداشت اور تشدد کے واقعات بشمول اسلاموفوبیا کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قرارداد پاکستان نے سعودی عرب، اردن اور مصر کی حمایت کے ساتھ پیش کی۔ جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مندوب بلال چوہدری نے قرارداد کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد مذہبی منافرت سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے حال ہی میں پیش کی گئی قرارداد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں منظور کی گئی تھی۔