قرض کے معاملات اور اسلام

image

 

دوسرا اور آخری حصہ 

دی ویووز نیٹ ورک: احادیث میں ہے کہ حضورﷺ نے صحابہؓ کی طرف سے انکے قرض ادا فرماۓ اور قرض ادا کرنے کیلئے کوشش بھی فرمائی جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں درج ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس پر صدقہ کرو۔‘‘ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی (جتنی مالیت) تک نہ پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض داروں سے فرمایا ’’جو تمہیں مل جائے، وہ لے لو، تمہارے لئے اس کے علاؤہ اور کچھ نہیں (صحیح مسلم#3981)۔ غزوہ احد کے شہید کے قرض کی ادائیگی پر آپ ﷺ نے خصوصی شفقت فرمائی جیسا کہ بخاری شریف کی روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے۔ ان پر قرض چلا آ رہا تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے حق کے مطالبے میں سختی اختیار کی تو میں انکا بیٹا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ان سے دریافت فرما لیا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں اور میرے والد کو معاف کر دیں۔ لیکن قرض خواہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں میرے باغ کا میوہ نہیں دیا اور فرمایا کہ ہم صبح کو تمہارے باغ میں آئیں گے۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ ہمارے باغ میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم درختوں میں پھرتے رہے اور اس کے میوے میں برکت کی دعا فرماتے رہے۔ پھر میں نے کھجور توڑی اور ان کا تمام قرض ادا کرنے کے بعد بھی کھجور باقی بچ گئی۔ (صحیح بخاری#2395) ایک جنازہ لایا گیا، لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! اس کی نماز جنازہ پڑھا دیجئے۔ آنحضرت ﷺ نے دریافت فرمایا، کسی کا قرض بھی میت پر ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہے، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا، کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی پھر تیسرا جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجیے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے متعلق بھی وہی دریافت فرمایا، کیا کوئی مال ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس پر کسی کا قرض بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تین دینار ہیں۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی لوگ نماز پڑھ لو ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ بولے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ ان کی نماز پڑھا دیجیے، ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ نے اس پر نماز پڑھائی(صحیح بخاری#2289)۔ 

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ابن ابی حدرد ؓ سے مسجد میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے گھر میں سن لیا، رسول اللہ ﷺ ان دونوں کی طرف آئے حتیٰ کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک ؓ کو آواز دی ’’کعب‘‘ انہوں نے عرض کیا ، یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم حاضر ہوں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کا آدھا قرض معاف کر دو۔ کعب ؓ نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میں نے کر دیا، آپ ﷺ نے (ابن ابی حدرد ؓ سے) فرمایا ’’کھڑا ہو اور اس کا قرض ادا کر۔‘‘ متفق علیہ (مشکوٰة المصابیح #2908) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو قرض خواہوں کے ہاتھ سے چھڑایا، پھر انہیں یمن میں عامل (گورنر یا زکوٰۃ وصول کرنے کا ذمے دار) مقرر فرما دیا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا مال دے کر مجھے چھڑایا، پھر مجھے عامل بنا دیا (سُنن ابن ماجه‎#2357)۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا غلام مدبر کر دیا جب کہ وہ خود محتاج تھا۔ اس کے ذمے قرض بھی تھا، رسول اللہ ﷺ نے وہ غلام آٹھ سو درہم میں بیچ کر وہ رقم اس کو دے دی اور فرمایا ’’اپنا قرض ادا کر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کر (سنن نسائی#5420)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ایک رات کی ضیافت ہر مسلمان پر حق لازم ( واجب ) ہے۔ جو شخص کسی کے صحن میں اترے تو ضیافت اس پر قرض ہے، مہمان چاہے تو وصول کر لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے (سنن ابو داؤد # 3750)۔

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ میں اپنی آزادی کیلئے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز ہوں لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں، مولا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا "کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے، اگر تجھ پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ اسے تجھ سے ادا کر دے گا، کہو :’’اے اللہ جل جلالہ! تو اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے مجھے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاؤہ مجھے سب سے بے نیاز کر دے۔‘‘ ہم جابر ؓ سے مروی حدیث "اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ" باب "تغطیۃ الاوانی" میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے (مشکوٰة المصابیح #2449)۔ "حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص تنگدست کو مہلت دے، اس کیلئے قرض کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور جب ادائیگی کا دن آ جائے لیکن وہ اس کے بعد بھی مہلت دے تو اسی طرح ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب ہے  (مستدرك الحاكم#2225)۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا: صدقے کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: اے جبریل علیہ السلام! کیا وجہ ہے کہ قرض صدقے سے بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ سائل (بعض اوقات) سوال کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس (اس کی ضرورت کا مال) موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا ضرورت (اور مجبوری) کی حالت ہی میں قرض لیتا ہے (کیونکہ قرض کی واپسی تو ضروری ہے، اس لیے مجبوری کے وقت ہی لیا جاتا ہے) (سُنن ابن ماجه‎#2431)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ  ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور دشمنوں کے ہنسنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں (السلسلۃ الصحیحہ#2903)۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض ادا كرنے تک مقروض كے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ اللہ كے نا پسندیدہ كام میں نہ ہو۔کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر اپنے پہرے دار(خادم)سے کہتے تھے "جاؤ میرے لئے قرض لے کر آؤ کیوں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں کوئی رات اللہ کے بغیر گذاروں (السلسلۃ الصحیحہ#1610)۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حق والے ( قرض خواہ ) سے فرمایا ’’اپنا حق شرافت سے وصول کرو، پورا ادا ہو یا ادھورا (سُنن ابن ماجه‎#2422)۔ نبی ﷺ کے صحابی حضرت ابویسر (کعب بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے  (سُنن ابن ماجه‎#2419)۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو کوئی قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی اور ان کی نگہداشت میرے ذمے ہے۔ اور میں مومنوں سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں (یا ان کا زیادہ ذمے دار ہوں) (سُنن ابن ماجه‎#2416)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے پاس کسی (قرض خواہ) کا مال بعینہ موجود ہو تو قرض خواہ نے اس سے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، (ہر حال میں) وہ دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہے(سُنن ابن ماجه‎#2361)۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا "جب جنگ احد میں (میرے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشرف لائے اور فرمایا ’’اے جابر رضی اللہ عنہ! کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے والد سے کیا فرمایا؟ دوسری سند سے اس حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے جابر! کیا بات ہے، میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم! میرے والد شہید ہو گئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے  آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھے خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے تیرے والد سے کس انداز سے ملاقات کی؟ میں نے کہا "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم! ضرور فرمایئے، فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے جس سے بھی کلام کیا ہے، پردے کے پیچھے سے کیا ہے، لیکن تیرے والد سے بغیر حجاب کے کلام فرمایا، اور فرمایا میرے بندے! مجھ سے کسی تمنا کا اظہار کر، میں تجھے عطا فرماؤں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا "یا رب! مجھے زندہ کر دے، میں دوبارہ تیری راہ میں قتل ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا یہ فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے کہ انہیں دنیا میں واپس نہیں بھیجا جائے گا (سُنن ابن ماجه‎#190)۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرض جیسی مشکل سے بچاۓ رکھے اور جن لوگوں پر قرض ہے اللہ تعالیٰ ان کیلئے کشائش عطا فرماۓ، آمین