وقتِ ہنر است و کار سازی ست

image


دی ویووز نیٹ ورک: علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا یہ پیغام ایک صدی پہلے جتنا مؤثر تھا، آج مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور ڈیجیٹل معیشت کے دور میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ حکیم الامت حضرت ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے نوجوان کو وقت کی قدر، ہنر کی اہمیت اور عمل کی دعوت دی، جبکہ آج پوری دنیا بھی اسی حقیقت کا اعتراف کر رہی ہے۔ ہر سال 15 جولائی کو عالمی یومِ مہارت برائے نوجوانان منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2014ء میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تاکہ نوجوانوں کو روزگار، کاروبار اور پائیدار ترقی کیلئے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔ 

رواں سال 2026ء کا موضوع "Skills for a Shared Future" یعنی "مشترکہ مستقبل کیلئے مہارتیں" رکھا گیا تھا، جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، سبز معیشت، ابلاغ، تنقیدی سوچ اور انسانی اقدار کو مستقبل کی کامیابی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یونیسکو کے مطابق دنیا میں کام کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030ء تک تقریباً 22 فیصد ملازمتیں نئی ٹیکنالوجی کے باعث تبدیل ہو جائیں گی، جبکہ موجودہ مہارتوں کا تقریباً 40 فیصد حصہ مستقبل کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف ڈگری نہیں بلکہ مسلسل نئی مہارتیں سیکھنا کامیابی کی بنیادی شرط بن چکا ہے۔

پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر جدید علوم، فنی تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، زرعی جدت، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی اور کاروباری مہارتوں سے لیس ہو جائیں تو یہی آبادی ملک کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر انہیں معیاری تعلیم، تربیت اور مواقع نہ ملیں تو یہی نوجوان بے روزگاری، مایوسی اور ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف امتحان، نمبر اور ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔ صنعت کو ہنرمند افراد درکار ہیں جبکہ ہمارے ادارے بڑی تعداد میں ایسے فارغ التحصیل نوجوان پیدا کر رہے ہیں جن کے پاس عملی مہارت کم ہے۔ اس خلا کو پر کیے بغیر معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

پاکستان میں ایک اور خوش آئند پہلو بھی موجود ہے۔ ہزاروں نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن خدمات کے ذریعے عالمی منڈی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اگر حکومت، جامعات اور نجی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کریں تو پاکستان خطے کی بڑی ڈیجیٹل معیشت بن سکتا ہے۔ تاہم ترقی صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں۔ جدید زراعت، لائیو اسٹاک، مکینیکل، الیکٹریکل، تعمیرات، صحت، ٹیکسٹائل، سیاحت اور چھوٹے کاروبار بھی مہارت کے اہم شعبے ہیں۔ ایک ماہر کسان، ویلڈر، الیکٹریشن، ٹیکنیشن یا مکینک بھی قومی ترقی میں اتنا ہی قیمتی کردار ادا کرتا ہے جتنا ایک انجینئر یا ڈاکٹر کرتا ہے۔ اسلام بھی علم کے ساتھ ہنر اور محنت کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے پیارے رسولِ اکرم ﷺ نے محنت سے روزی کمانے والے ہاتھ کو عزت دی اور کسبِ حلال کو بہترین ذریعۂ معاش قرار دیا۔ یہی تعلیم نوجوان کو خود انحصاری، دیانت اور خدمتِ خلق کی طرف لے جاتی ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فنی تعلیم کے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط ربط قائم کرے، ہر ضلع میں جدید اسکل سینٹرز قائم کیے جائیں، مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ، زرعی ٹیکنالوجی اور کاروباری تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، جبکہ نوجوان بھی سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے روزانہ کچھ وقت کسی نئی مہارت کے حصول کیلئے وقف کریں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا شاہین صرف بلند پرواز نہیں بلکہ باعمل، خوددار، باکردار اور ہنرمند بھی ہے۔ اگر پاکستان کا ہر نوجوان ہر سال ایک نئی مہارت سیکھنے کا عزم کر لے تو بے روزگاری میں نمایاں کمی، معیشت میں استحکام اور قومی خود انحصاری کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف اسناد نہیں بلکہ ایسی مہارتیں دیں جو انہیں مستقبل کا معمار بنائیں۔ یہی مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام ہے، یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی پاکستان کی ترقی کا یقینی راستہ ہے۔
"غافل منشیں نہ وقتِ بازی ست
وقتِ ہنر است و کار سازی ست"