نظریۂ پاکستان کے خلاف خاموش محاذ
دی ویووز نیٹ ورک: گزشتہ برس مئی 2025 میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح بھارتی شکست نے ایک بار پھر سفارت کاری، مودی میڈیا اور اپنے ہم عصروں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے جسکے ذریعے وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اسے ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر دیکھا جائے۔ لیکن اسی تناظر میں پاکستان کے اندر بالخصوص پنجاب میں ہونے والی بعض سیاسی اور انتظامی پیش رفت بھی توجہ طلب ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب حکومت کے بعض اقدامات کو بھارت کی حکمران جماعت BJP اور RSS قیادت نے باقاعدہ میڈیا پر سراہا جس نے یہ سوال ضرور پیدا کیا کہ ایسے اقدامات کی آخر کیا ضرورت پیش آگئی تھی کہ بھارتی نظریات نے اسے اپنے بیانیے سے ہم آہنگ سمجھا؟ وہ ملک جو دو قومی نظریے کا آج تک انکاری ہے وہ اگر آپ کی داخلی پالیسیوں پر کھل کر اطمینان کا اظہار کرے تو یہ اشارہ کس طرف جاتا ہے۔
پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کو اگر باریک عینک لگا کردیکھا جائے تو نئی دہلی کے ہر سفارتی اشارے کو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے وقت، پس منظر اور ممکنہ مقاصد سے سمجھنا چاہیے۔ اچانک مذاکرات کی باتیں جہاں شکوک و شبہات کو جگہ دے رہی ہیں وہاں مختلف سوالات بھی کھڑے ہورہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کیوں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ اب کیوں؟ کیا وہ بھارت جس نے برسوں تک "دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے" کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نعرہ بنایا، اچانک اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے؟ یا پھر یہ کسی بڑی چال کا آغاز ہے؟ بھارتی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے ایک حقیقت ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ قوم اپنے مفاد کی خاطر ہر الٹے قدم کے پیچھے ایک منصوبہ لے کر چلتی ہے۔
ایسے میں اگر بھارت کے بعض سیاسی حلقے اور آر ایس ایس مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جائے کہ "ہم بات چیت سے نہیں بھاگ رہے، رکاوٹ دوسری طرف ہے جبکہ ہم امن کے خواہشمند ہیں۔" دوسری طرف دیکھا جائے تو RSS کے اہم لیڈرز کے حالیہ بیانات بھی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ کیا واقعی سوچ بدل چکی ہے؟ اگر نہیں تو اس جھوٹی مسکراہٹ کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟ اس امر کو سمجھنے کیلئے گزشتہ ماہ فرنٹ لائن میگزین کے کالم نگار منیش آنند جنہوں نے 12 مئی 2026 کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں RSS کے جنرل سیکرٹری دتاترے ہوسابلے نے مذاکرات کا دروازے کھلے رکھنے کی بات کی۔ ساتھ ہی ایک اور سینئیر لیڈر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام کا DNA ایک ہی ہے اور وہ دو قومی نظریہ کو ریجیکٹ کر چکے ہیں! اپنے بیانیے کی صداقت کیلئے انہوں نے لاہور مینیجمینٹ کے اقدامات کو اپنی گفتگو کا حصہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلام پورہ کا نام تبدیل کرکے کرشن نگر، مصطفی آباد کا نام دھرم پورہ، رحمان گلی کو رام گلی، بابری مسجد چوک کا نام جین مندر اور مولانا ظفر علی خان کا نام تبدیل کر کے لکشمی چوک کی تجاویز دی ہیں جو ایک بہترین پیش قدمی ہے۔ میرا ایک معصومانہ سوال ہے کہ کیا پنجاب حکومت، جو وفاق میں بھی برسراقتدار ہے، کی ایسی تجاویز اور ان کے پالیسی سازوں کو سیاسی بصیرت سے محروم اور نظریۂ پاکستان پر خاموش حملہ تصور کیا جائے؟
جبکہ یہ جانتے ہوئے کہ بھارت میں مسلمانوں کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف تاریخی مذہبی مقامات کو قانونی تنازعات اور سروے کی زد میں رکھا جارہا ہے، اور دوسری طرف بعض ریاستوں میں مسلم طلبہ کے نصاب اور تعلیمی سرگرمیوں میں ہندو مذہبی لٹریچر کو شامل کیا گیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں کئی تاریخی مساجد سے متعلق قانونی تنازعات، سروے اور عدالتی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، جبکہ بعض مقامات پر انہیں قدیم ہندو مندروں کی جگہ قرار دینے کے دعوے بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ اسی دوران بعض ریاستوں میں نصابِ تعلیم اور اسکولی سرگرمیوں میں ہندو مذہبی و ثقافتی مواد کو بھی شامل کیا جاچکا ہے۔ مثال کے طور پر اتراکھنڈ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں بھگوت گیتا کی تلاوت اور اس کے مضامین کو فروغ دینے کے اقدامات کیے، جبکہ بعض ریاستوں میں رام چرت مانس اور رامائن کو نصاب اور تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا۔ کیا ہم اندھے ہیں؟ یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کررہے ہیں؟
ایسے حالات میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک طرف داخلی سطح پر ایسے اقدامات جاری ہوں اور دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور خیرسگالی کا پیغام دیا جائے، جبکہ بھارتی قیادت کے سازشی اور بزدلانہ اقدام بھی سامنے ہوں، تو ان لومڑی نماں پوشیدہ مقاصد اور سفارتی پس منظر کو کس زاویے سے دیکھا جائے؟ کیا یہ اندرونی کمزوریاں ہیں یا سفارتی تعلقات کی آڑ میں چھپے ذاتی مفادات؟ بہرحال تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قومیں صرف بیرونی خطرات سے نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں، مفاد پرستی اور نظریاتی بے حسی سے بھی کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں دشمن کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی طاقت پر نہیں بلکہ ہمارے آپسی کشیدگیوں، ذاتی عناد اور رویوں پر بھی رہا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری سیاست میں بھی ایسے کردار موجود رہے ہیں جنہوں نے قومی مفاد پر ذاتی یا وقتی سیاسی مفادات کو ترجیح دی جبکہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر پاکستان کی جڑ یعنی نظریہ پاکستان پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے جو درحقیقت اس خطہ ارض کا اصل راز ہے۔
پاکستان کا قیام محض جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں، جدوجہد اور ایک واضح نظریاتی شعور کا نتیجہ ہے۔ دو قومی نظریہ صرف ہماری تاریخ ہی نہیں بلکہ ہماری قومی و ملی شناخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سرزمین پاکستان سے محبت ہمارے خون میں یوں رچی بسی ہے کہ اس قوم کے خون کا رنگ سبز ہے اور ہمارے دلوں کی دھڑکن پاکستان کی مٹی سے جڑی ہے۔ اس لیے خواہ کتنے ہی بیانیے تراشے جائیں، سفارتی چالیں چلی جائیں یا نظریاتی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، پاکستانی قوم نہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کرے گی، نہ اپنے محسنین کی جدوجہد کو، اور نہ ہی اپنے قائدین کی دوراندیش قیادت کو پس پشت ڈالے گی۔ پاکستان کا نظریاتی تشخص ہمارے لیے محض ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک قومی امانت ہے، جس کا تحفظ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ آباد رہیں۔