جانوٹ جیل میں غزہ کے قیدیوں کی تکالیف میں مزید اضافہ٬ حالات بگڑ گئے
غزہ: (ویب ڈیسک) فلسطین میں قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے کمیشن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کے لیے جانوٹ جیل میں انسانی حالات سخت پابندیوں، سزاؤں اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے باعث شدید حد تک بگڑتے جا رہے ہیں حالانکہ یہ ضروریات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت ضمانت شدہ ہیں۔عرب نیوز کے مطابق ایک رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ متعدد عرب نیوز کے مطابق ایک رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ متعدد قیدیوں سے ملاقات اور ان کی شہادتیں سننے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جیل حکام قیدیوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھے ہوئے ہیں تشدد اور مارپیٹ بھی کرتے ہیں۔
کمیشن کے مطابق قیدیوں میں جلدی امراض بھی بڑھ گئے ہیں جو ان کی صحت کے لیے اضافی خطرہ ہیں۔ اوفر جیل میں حکام صبح سویرے گدے ہٹا دیتے ہیں اور شام کو واپس کرتے ہیں جبکہ سیلوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور قیدیوں کو مارپیٹ، بدسلوکی، گالی گلوچ اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قیدیوں کو بیرونی تفریح اور غسل کے لیے 15 منٹ سے زیادہ وقت نہیں دیا جاتا، ان کے پاس کپڑے اور کمبل بھی ناکافی ہیں، ہر قیدی کے پاس صرف ایک جیل یونیفارم اور ایک بیج رنگ کا پاجامہ سیٹ ہوتا ہے۔ قیدیوں کو صفائی اور جراثیم کش سامان رکھنے سے بھی منع کیا جاتا ہے جو سزا کے دیگر اقدامات میں شامل ہے۔
قیدیوں کے امور کے کمیشن نے بین الاقوامی اور انسانی اداروں بالخصوص انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے اپیل دہرائی کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کریں اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ انہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت کم از کم حقوق فراہم کیے جا سکیں۔