امام ابو حنیفہ رحمتہ اللّٰہ علیہ

image

دی ویووز نیٹ ورک : امام کے معنی پیشوا یا رہنماء کے ہیں۔ فقہ کے چار امام ہیں جن میں امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہم ہیں۔ ان چاروں نے قرآن و حدیث میں اپنے اپنے علم کے مطابق غور کیا اور انھیں یکجا کیا، ان چاروں کی اکثر لکھی ہوئی باتیں قرآن و حدیث کے مطابق ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں جو بھی اختلاف ہو، ہر حال میں ان چاروں بزرگوں کی لوگوں نے پیروی کی اور انہی کی نسبت سے لوگ مالکی، حنبلی، شافعی اور حنفی کہلاتے ہیں۔ فقہ حنفیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور انھیں سنی کہا جاتا ہے، حنفی لوگ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پیروکار ہیں جنھیں امام اعظم بھی کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں عراق کے شہر کوفہ میں ایک بزرگ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا نام نعمان بن ثابت رحمۃ اللّٰہ علیہ رکھا گیا اور ابو حنیفہ آپ کی کنیت ہے۔ آپ کے والد عالم تھے، انھوں نے بچپن میں آپ کو علم دین سکھانا شروع کر دیا تھا۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا چونکہ علم طبیعت میں علم کا شوق تھا اس لئے شوق کے مارے بھوکے پیاسے رہ کر دور دراز سفر کئے اور آہستہ آہستہ بڑے عالم بن گئے اور کوفہ میں درس دینا شروع کر دیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وہ باتیں جو احادیث کے پردوں میں چھپی ہوئی تھیں آپ نے چھان بین کر کے کتابوں کی صورت میں لکھ دیں تا کہ مسلمانوں کو اپنی ضروریات کے لحاظ سے دین کے حکم ڈھونڈنے کی ضرورت پیش آئے وہاں سے ڈھونڈ لیں۔

امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللّٰہ علیہ کو اللہ تعالی نے بے پناہ فراست وذکاوت سے نوازا تھا، امام صاحب مشکل سے مشکل مسئلہ کو اتنی آسانی سے حل فرماتے تھے کہ بڑے بڑے علم وفن کے تاجدار بھی حیران وششدر رہ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وقت کے جبال العلم علماء اور فقہ وحدیث کے آفتاب وماہتاب نے آپ کی ذہانت، حاضر جوابی اور فراست وذکاوت کا اعتراف کیا ہے اور نہ صرف آپ کے معتقدین بلکہ معاصرین اور متعصبین نے بھی اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ عبداللہ ابن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو فہم وفرست میں ابوحنیفہ سے بڑھ کر نہیں پایا ہے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی عقل کو نصف اہل زمین کی عقل سے تولیں تو ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی عقل غالب آ جائے گی۔ ہارون رشید نے جب امام صاحب کے بارے میں سنا تو فرمایا کہ ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے دل کی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنے سر کی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ یزید بن ہارون رحمۃ اللّٰہ علیہ کہتے ہیں میں بہت سے لوگوں سے ملا لیکن میں نے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے زیادہ عقلمند کسی کو نہیں پایا۔ تاریخ کی کتابوں میں امام صاحب کی ذہانت وذکاوت اور فہم وفراست کے بہت سے حیران کن واقعات مذکور ہیں۔ امام صاحب کی فراست کے ان واقعات سے علمی وفقہی مسائل کی گرہ کشائی کے راستے معلوم ہوتے ہیں۔ نیزیہ واقعات ہمیں غورو فکر کی دعوت دیتے ہیں اور فکر صحیح وفکر سلیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی۔ شروع میں روزی کمانے کیلئے کپڑے کی تجارت کی مگر پھر چھوڑ دی یہاں تک کہ آپ گوشہ نشین ہونا چاہتے تھے۔ اسی دوران آپ کو خواب میں حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے فرمایا! ابو حنیفہ تمہیں خدا نے میری سنت کو زندہ کرنے کیلئے پیدا کیا ہے دنیا کو ترک کرنے کا خیال چھوڑ کر لوگوں کے درمیان رہ کر اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اس لئے آپ زندگی بھر سنت رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی خدمت میں لگے رہے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا مشہور واقعہ ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دفعہ ایک لڑکے کو کیچڑ میں چلتے ہوئے دیکھا اور فرمایا کہ لڑکے ذرا سنبھل کر چلو ورنہ گر جاؤ گے۔ لڑکے نے جواب دیا کہ کوئی بات نہیں اگر میں پھسل بڑا تو مجھے نقصان ہو گا مگر آپ سنبھل کر چلیں کیونکہ آپ کے پھسل جانے سے سارے مسلمان پھسل جائیں گے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ وہیں کھڑے ہو گئے اور لڑکے کی بات سن کر رونے لگے۔ پھر اپنے شاگردوں اور مریدوں سے فرمایا کہ تمہیں اگر دین کے کسی مسئلے میں شک ہو اور میرے قول کخ گواہی میں قرآن و حدیث میں دلیل نہ ملے تو میری پیروی نہ کرنا  بلکہ خود غور و فکر کر کے کسی نتیجہ پر پہنچ جانا۔ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیس سال تک آپ کی خدمت کرتا رہا لیکن کبھی انھیں ننگے سر نہیں دیکھا اور نہ کبھی تنہائی میں بھی پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھے، آپ کا  فرمان ہے کہ تنہائی میں خدا سے شرم اصل تقوی ہے۔ انہی سے روایت ہے کہ کافی عرصہ بعد جب میں ان سے رخصت ہوا تو پوچھا اب مجھے کیا کرنا چاہئے، فرمایا علم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ علم عمل کے بغیر ایسا ہی ہے جیسے جسم بغیر روح کے ہو۔

کوفہ کا ایک رافضی حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف بکواس کرتا تھا، کبھی انھیں کافر کہتا اور کبھی یہودی، امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو خبر ہوئی تو دفاعِ صحابہ میں تڑپ اٹھے اور جب تک اس سے ملاقات نہ کر لی بے چین رہے، آخراس رافضی کے پاس تشریف لے گئے اور بڑے ادب، محبت اور نرمی سے کہا بھائی! میں تیری لخت جگر (بیٹی) کیلئے فلاں صاحب کی طرف سے منگنی کا پیغام لایا ہوں، اللہ نے اس صاحب کو حفظ قرآن کی دولت سے نوازہ ہے، اس کی تمام رات نوافل اور تلات قرآن میں گزرتی ہے، خدا کاخوف ہمہ وقت غالب رہتا ہے، تقوی میں اس کی نظیر نہیں، رافضی نے کہا: بہت اچھا یہ تو میری لڑ کی کیلئے نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کیلئے سعادت ہے، امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: مگر اس میں ایک عیب ہے کہ مذہباً یہودی ہے، رافضی کا رنگ بدل گیا اور چلا کر بولا: کیا میں اپنی لڑکی کی شادی یہودی سے کر دوں؟ جب امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا بھائی! آپ تو اپنی لخت جگر کو ایک یہودی کے نکاح میں دینے کو تیار نہیں تو حضور صلی اللہ و علیہ وسلم نے اپنے نور دل کے دو ٹکڑے (دوبیٹیاں) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس طرح دے دیا؟ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ ارشاد رافضی کی تنبیہ اور ہدایت کا باعث ہوا، وہ اپنے کیے پر نادم اور پشیمان ہوا اور خلوص دل سے توبہ کرکے ہمیشہ کیلئے ایسی حرکتوں سے باز آگیا۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللّٰہ علیہ کی تعلیمات آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعلِ راہ ہیں اور مسلمان ان سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب پر اپنا کرم فرمائے اور صحیح معنوں میں اسلام کے اصولوں پر چلنے والا بنائے۔ آمین