مصنوعی ذہانت، ایک سہولت یا ایک چیلنج

image

 

دی ویووز نیٹ ورک: بچپن سے سنتے آ رہے تھے کہ "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،" مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم یہ جہاں دریافت ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی قریب میں چاند پر پہنچنا کسی معرکے سے کم نہ تھا، مگر اب تو چاند پر پلاٹس بھی فروخت ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ چاند کی مٹی سے گھڑیوں کے ڈائل تیار کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح موبائل فون کے نئے ماڈلز نے دنیا کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ بات فیچر فون سے چلتی ہوئی اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم پر بھی نہیں رکی، مرلہ زمین پر رکھنے والے ٹیلیویژن کی جگہ ایل ای ڈی نے لے لی ہے۔ الغرض صدی بدلنے کے ساتھ ساتھ سماں بھی بدل گیا ہے، انسانی زندگی کا دارومدار مکمل طور پر کسی نہ کسی طرح ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہے۔

معاملات اب کمپیوٹر سائنسز کے زیرِ سایہ پروان چڑھ رہے ہیں، سافٹ ویئر اس قدر مضبوط ہو گیا ہے کہ اب مشینوں نے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اپنا لیا ہے۔ اب ہمیں صرف ایک ٹاسک دینا پڑتا ہے، کام خود بخود سر انجام پا کر ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اب تو لکھاریوں کو بھی راحت مل گئی ہے جس نے جو لکھنا ہے "اے آئی چیٹ بوٹس" کو اپنا موضوع دے اور اس پر ایک مدلل مضمون لکھوا سکتا ہے۔ جی ہاں ہم "اے آئی" (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) یعنی مصنوعی ذہانت کی ہی بات کر رہے ہیں۔ نہ صرف لکھنے بلکہ ڈیزائننگ اور پینٹنگ سمیت جو بھی کام آپ کرنا چاہیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کر سکتے ہیں۔

خبر ہے کہ انسٹاگرام ایک حیرت انگیز فیچر پر کام کر رہا ہے، اس فیچر کے ذریعے صارفین اے آئی دوست بنا سکیں گے اور ان سے گفتگو بھی کر سکیں گے۔ اس فیچر کو خاص طور پر لوگوں کی تنہائی کو دور کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ مذکورہ فیچر کے حوالے سے ظاہر ہونے والا کوڈ بتاتا ہے، لوگ اپنے اے آئی دوست کی جنس، عمر اور قومیت کا تعین کر سکیں گے، حتیٰ کہ ان کرداروں کی شخصیت کی خصوصیات کا تعین بھی کیا جا سکے گا۔ آخر میں اس دوست کو نام اور چہرہ دیا جا سکے گا اور صارفین ان سے انسٹاگرام کے ڈائریکٹ میسج فیچر کے ذریعے بات کر سکیں گے۔ اس طرح کا فیچر میٹا کے دیگر پلیٹ فارم جیسے کہ واٹس ایپ پر بھی متعارف کرایا جائے گا جبکہ اسنیپ چیٹ جیسی دیگر ایپس میں بھی ایسے فیچرز پر کام کیا جا رہا ہے جن میں اے آئی چیٹ بوٹس سے عام دوستوں کی طرح بات کی جا سکے گی۔

مصنوعی ذہانت بہت بڑے ڈیٹا کو بھی باآسانی سمو سکتا ہے، تجزیہ کر سکتا ہے اور نئے ٹرینڈز کی نشان دہی کرتے ہوئے مناسب تجاویز دے سکتا ہے۔ ہیلتھ کیئر اور فنانس کی فیلڈ میں مصنوعی ذہانت ڈیٹا کے بارے میں بے پناہ صلاحیت بہت آسانیاں لا سکتی ہے، اے آئی کی مدد سے ہم انسان کے ذہن کی صلاحیت کو بھی پر لگا سکتے ہیں۔ اس کی مدد سے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح اے آئی پاورڈ مصنوعی ٹانگیں حیران کن کارکردگی کی حامل ہو سکتی ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی نے انٹرنیٹ پر موجود تمام ٹیکسٹ کو کام میں لا کر سوالوں کے جواب دینے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اے آئی کی مدد سے ٹیسلا کاریں بغیر ڈرائیور چل سکتی ہیں۔

یہ سب سہولیات اور آسانیاں تو اپنی جگہ ٹھیک ہیں، مگر اس سے پیدا ہونے والے بگاڑ کا احاطہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030ء تک کم از کم 40 فیصد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، صرف اس آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بدولت، یہی نہیں بلکہ مشینوں کا بہت زیادہ انحصار اس پر ہو جائے گا تو اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ دنیا بھر کے ایک ہزار ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے لائحہ عمل تیار کرنے سے متعلق خط پر دستخط کئے ہیں جن میں ایلون مسک سمیت دنیا بھر کی نامور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اہم عہدے دار بھی شامل ہیں، ایلون مسک نے تو مصنوعی ذہانت کو دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ڈکلیئر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پورا ایک سال ہونے کو ہے، کیا ماہرین اس خط کو سیاستدانوں کی طرح ایک بیانیہ بنانے کیلئے استعمال کرتے ہیں یا پھر اس پر کوئی قواعد و ضوابط بھی بناتے ہیں۔ میں متعجب ہوں کہ مقامی حکومتوں نے بھی ابھی تک اس خطرے کو محسوس نہیں کیا۔ حالانکہ اس کی زد میں سب سے زیادہ حکومتی اداروں نے ہی آنا ہے، ان کے راز اب کیسے راز رہیں گے، بے روزگاروں کو روزگار کہاں سے فراہم کریں گے۔