امریکا کی طرف سے بھارت پر دباؤ بڑھ گیا
امریکا نے کہا کہ بھارتی اہلکار کینیڈا میں سکھ رہنماء کے قتل میں ملوث ہے، جان کربی نے بھارتی شہری نکھل گپتا پر فرد جرم عائد کرنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوۓ کہی۔
نیویارک: (ویب ڈیسک) بھارتی حکومت کا اہلکار امریکا کی سرزمین پر سکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنون کے قتل کی ناکام سازش میں ملوث ہے۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ہم ان الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ بھارتی حکومت کا ایک اہلکار امریکا کی سرزمین پرسکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنون کے قتل کی ناکام سازش میں ملوث تھا۔ اسرائیل کے دورے کے دوران دارالحکومت تل ابیب میں جمعرات کو انٹونی بلنکن نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ عدالت میں زیرغور ہے لیکن انہوں نے گروپتونت سنگھ پنون کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کے بارے میں بھارت کی جانب سے شروع کی جانے والی تحقیقات کا خیر مقدم کیا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت ایک اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور ہم بھارت کے ساتھ اس اسٹریٹجک شراکت داری کو بہتر اور مضبوط کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے، ایک ہی وقت میں ہم اس معاملے سے متعلق الزامات اور اس تحقیقات کو ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ امریکی محکمہ قانون نے بدھ 30 نومبرکو سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش میں 52 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا پر چارج شیٹ بھی عائد کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کا اہلکار اس قتل کیلئے نکھل گپتا کو ہدایات دے رہا تھا اور اسی اہلکار نے کینیڈا میں سکھ رہنما نجار سنگھ کو قتل کروایا۔
اعلیٰ امریکی سفارت کار نے صحافیوں کو بتایا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ معاملہ ہے، جسے ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، گزشتہ ہفتوں میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اسے براہ راست بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا، حکومت نے آج اعلان کیا کہ وہ تحقیقات کر رہی ہے اور مناسب نتائج دیکھنے کی منتظر ہے۔