متحدہ عرب امارات نے فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا

image
ابوظبی: (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کیلئے مشرقی ساحلی ریاست فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق دبئی کی معروف بندرگاہی کمپنی ڈی پی ورلڈ اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت نہ صرف فجیرہ میں نئی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی بلکہ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں ایک جدید کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا، تاکہ درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، اس۔ر۔ائ۔یل اور ای۔ر۔ا۔ن کے درمیان ک۔شی۔دگی کے باعث متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں پر توجہ دینا شروع کی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے دبئی کی جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس نے متبادل بندرگاہ کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔ ذرائع کے مطابق نئی بندرگاہ مکمل ہونے کے بعد کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں لانے اور یہاں سے روانہ کرنے کی سہولت میسر آ سکے گی۔ ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اگر منصوبہ طے شدہ رفتار سے آگے بڑھا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ فجیرہ میں نئی بندرگاہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جبل علی پورٹ کو ختم یا تبدیل کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد ملک کیلئے ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک حصہ فجیرہ کے ذریعے برآمد کرتا ہے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کیلئے اس راستے سے تیل کی برآمدات بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔