بلوچستان: قدرتی ذخائر اور علاقائی سالمیت
دی ویووز نیٹ ورک: انسان نے اپنی بقاء کیلئے ہمیشہ ایسے علاقوں اور جگہوں کا انتخاب کیا ہے جس میں نہ صرف اس کی بقاء سلامت رہی بلکہ اس نے اپنی نسل میں اضافہ، تہذیب کی پرورش اور وقت و فاصلہ کو قابو کرنے کی ہر ممکن کوشش کی- اس جہد نے انسان کو ہر روز دنیا کے نئے نئے رازوں سے پردہ ہٹانے پر مجبور کیا- بالآخر انسان نے اپنی بقاء میں اپنے مسکن کی شناخت میں تحفظ، ربط اور وسائل جیسی بنیادی اکائیوں کو ناگزیز سمجھا- آج کئی ممالک کی عالمی طاقتوں کے طور پر ابھرنے کے پیچھے یہی بنیادی اکائیاں کارفرما ہیں- پاکستان قدرتی طور پر خطہ عرض کے بلند ترین پہاڑی سلسلے، سالہاسال بہتے دریاؤں، مختلف موسم، سرسبز کھیت و کھلیان، معدنیات سے بھرے صحرا و پہاڑ اور بین الاقوامی گزراہوں کا مسکن بنا- جس میں بلوچستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے اپنی پہچان آپ ہے، کیونکہ اس کی سرحدیں نہ صرف دو طرف سے بین الاقوامی سرحدوں سے ملتی ہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک مثالی مقام بناتی ہے- یہ صوبہ مغرب میں ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر اور شمال میں افغانستان کے ساتھ 1468 کلومیٹر کی سرحد رکھتا ہے- جنوب میں اس کا بحیرہ عرب کے ساتھ 760کلومیٹر طویل ساحل ہے- بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہے اور گوادر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ایک ترقی پذیر ساحلی شہر ہے-
بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جس میں سونا، تانبا، کرومائیٹ، کوئلہ اور قدرتی گیس وغیرہ شامل ہیں- یہ صوبہ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، جو ان خطوں کو ملاتا ہے- درہ بولان، ایک قدرتی راستہ، بلوچستان کو افغانستان کے صوبے قندھار سے ملاتا ہے، جسے انگریزوں کے دور میں گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا- یہ صوبہ پاکستان کے باقی حصوں سے ریلوے لائن اور سڑکوں کے جال کے ذریعے بھی جڑا ہوا ہے- 2
بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو اپنے بڑے رقبے، کم آبادی اور مختلف جغرافیائی خصوصیات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے- اس خطے میں ایک طرف ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، تو دوسری طرف یہی حالات اسے نئے مسائل اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرواتے ہیں- رقبہ آبادی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے- ایسی صورت میں ریاست کا کردار مزید بڑھ جاتا ہے کہ وہ سادہ، کم خرچ اور مقامی ضرورتوں کے مطابق چھوٹے صنعتی منصوبوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں- اس طرح کے اقدامات نہ صرف مقامی آبادی کو معاشی مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی اور استحکام کیلئے بھی اہم ثابت ہوتے ہیں-
بلوچستان تاریخ کے تناظر میں:
بلوچستان مختلف تہذیبوں، سلطنتوں اور ثقافتوں کا مسکن رہا اور آج بھی ان کے اثرات اس خطے پر نمایاں ہیں- 14ویں صدی میں میر چاکر خان رند بلوچ نے قبائل کو ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت متحد کرتے ہوئے پہلی قبائلی کنفیڈریسی قائم کی، جو کرمان سے لے کر افغانستان، سندھ، پنجاب اور بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھی- یہ کنفیڈریسی 1666 تک قائم رہی- بعد ازاں، خان آف قلات نے قلات اتحاد قائم کیا، جو کاکڑ کنفیڈریشن سے زیادہ مضبوط اور وسیع تھا- 18ویں صدی کے اوائل میں قلات کنفیڈریسی کے علاقے میں قندھار (افغانستان) سے لے کر بندر عباس (ایران)، ڈیرہ غازی خان اور کراچی تک کے علاقے شامل تھے- خان آف قلات میر نصیر خان کے دور میں قلات کنفیڈریسی مضبوط ہوئی، جس میں ایک بیوروکریٹک نظام، 25 ہزار افرادی فوج، اور 2 قانون ساز کونسلیں (ایوان لارڈز اور ہاؤس آف کامنز) قائم کی گئیں۔3
میر نصیر خان کے دور میں بلوچستان میں سماجی اور اقتصادی ترقی میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی جو قلات کی معیشت کا اہم ستون بن گئی- کچھی (ضلع بلوچستان) کی آبپاشی کا نظام پرانے وقتوں سے موجود بندوں (ڈیم) اور نہروں پر مشتمل تھا- خان کے حکم پر حکام نے ان بندوں اور نہروں کے نظام کو منظم طریقے سے چلایا اور نگرانی کی- اس دوران سڑکوں اور تعلیم کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس سے خطے میں تعمیراتی، ثقافتی اور اقتصادی عروج آیا- تاہم، برطانوی فوج کے 1839 میں قلات کنفیڈریسی پر حملے کے بعد یہ فیڈریشن اپنے اختتام کو پہنچی- بعد کے ادوار میں مختلف معاہدے کیے گئے، لیکن آخرکار 27مارچ 1948کو قائداعظم محمد علی جناح اور خان میر احمد یار خان آف قلات کے درمیان الحاق کے معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں بلوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا- بلوچستان تاریخی طور پر ایک خوشحال خطہ رہا ہے، لیکن انتظامی مسائل اس کی ترقی میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں-
بلوچستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے عملی اقدامات:
بلوچستان ایک وسیع و عریض صوبہ ہے جس کی جغرافیائی حدود بے حد وسیع ہیں، تاہم اس کی آبادی نسبتاً کم ہے- اس جغرافیائی تنوع اور آبادی کی کمی کے پیش نظر، اس خطے میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کی کمی محسوس ہوتی ہے جو پورے بلوچستان کو پاکستان کے دیگر حصوں سے مؤثر طریقے سے جوڑ سکیں- بلوچستان کا وسیع رقبہ مقامی افراد کیلئے ایک طرف ایک قدرتی وسیلہ ہے، تو دوسری طرف ان کی معاشی، سماجی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آتا ہے- اس تناظر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم بلوچستان کے مقامی افراد کو جدید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں، تاکہ نہ صرف اس صوبے کی معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے بلکہ وہاں کے رہائشیوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو سکے-
تعلیم:
تعلیم نا صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے لیے بھی ایک بنیادی عنصر ہے، جو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے- تعلیم کی کمی کی وجہ سے بلوچستان میں مقامی افراد کو (ہنر مند ملازمتوں کے لیے) تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے ریاست کو نہ صرف ہنر مند افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجیز اور ذہانت کے حوالے سے آگاہی پھیلانے میں بھی اہم چیلنجز پیش آتے ہیں، جو علاقے کی مجموعی ترقی میں بڑی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں- تاہم، صوبے کے تعلیمی نظام کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ناکافی تعلیمی انفراسٹرکچر، اساتذہ کی کمی اور کم اندراج کی شرح شامل ہیں، جو بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں- اس تمام صورتحال میں، تعلیم کے بغیر بلوچستان کا استحکام اور ترقی ممکن نہیں اور ان مسائل کا حل تلاش کیے بغیر صوبے کا معاشی و سماجی استحکام حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے-6
مقامی صنعتوں کا فروغ اور معاشی استحکام:
زمین اور افراد کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئیں چھوٹی صنعتوں کی ترقی بڑی صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور منافع بخش ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف مقامی لوگوں کو براہ راست معاشی فوائد فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کی لاگت بڑے منصوبوں کے مقابلے میں کم اور فوائد زیادہ ہوتے ہیں، جو بلوچستان کے معاشی استحکام کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے- بلوچستان کی مقامی صنعتیں، جیسے ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ، جوتے اور چمڑے کی مصنوعات، اور قالین بافی، مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں اور ان سے مقامی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے- بلوچستان کی تاریخی مصنوعات، جیسے زرعی پیداوار، مٹی کے برتن، ٹیکسٹائل اور مصالحے، آج بھی تجارت میں اہم ہیں- حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مائیکرو اکنامک پراجیکٹس، مقامی انٹرپرینیورشپ اور چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں- چین کی مثال سامنے رکھتے ہوئے، چھوٹی صنعتوں کو فروغ دے کر بلوچستان اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے، جس سے صوبے کے عوام کا روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے- اسی طرح دیہی علاقوں میں ہسپتالوں اور اسکولوں کا قیام وہاں کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے-
سیاحت:
سیاحت ایک اہم عالمی اقتصادی شعبہ ہے جو دنیا کی معیشت میں دس فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ہر دس افراد میں سے ایک کو روزگار فراہم کرتا ہے- 27 ستمبر کو عالمی سیاحت کا دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد سیاحت کی سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے- پاکستان کا سیاحت کا شعبہ، خاص طور پر بلوچستان، اپنے بھرپور امکانات کے باوجود سیاسی عدم استحکام، ناکافی انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے ترقی کے مراحل میں ہے- تاہم، بلوچستان کی متنوع قدرتی خوبصورتی اور تاریخی مقامات میں زبردست سیاحت کی صلاحیت موجود ہے- مشہور مقامات میں مکران کوسٹل ہائی وے شامل ہے جو بحر عرب کے دلکش منظر پیش کرتا ہے، اور ہنگول نیشنل پارک جہاں ’’پرنسس آف ہوپ‘‘ چٹان اور ہندو عقیدے کے اہم مقام ہنجلج ماتا مندر واقع ہیں، اورمرا بیچ اور آستولا جزیرہ بھی بلوچستان کی قدرتی خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں- تاریخ کے شوقین افراد کے لیے، مہرگڑھ ایک قدیم تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے جو 7000 قبل مسیح میں آباد ہوا تھا- علاوہ ازیں، خضدار اور قلات کے تاریخی قلعے اور کوئٹہ کے زیارت میں واقع قائد اعظم ریزیڈنسی جہاں پاکستان کے بانی نے اپنی آخری ایام گزارے، بھی ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں- بلوچستان کی سیاحت کے امکانات میں سرمایہ کاری کر کے پاکستان نہ صرف اقتصادی ترقی حاصل کر سکتا ہے بلکہ اپنے عالمی امیج کو بہتر بنا سکتا ہے اور علاقے میں ثقافتی احیاء کو فروغ دے سکتا ہے- اسی طرح، سیاحت کے فروغ کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا اور سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا انتہائی اہم ہے- دنیا کے کئی ممالک، جیسے تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، سنگاپور، فرانس، اٹلی، متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ، اور اسپین، نے سیاحت سے خاطر خواہ آمدنی حاصل کی ہے- بلوچستان کے قدرتی پرکشش مقامات سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے صوبے کی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے-
توانائی:
توانائی کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے بنیادی ضرورت ہے اور ٹیکنالوجی میں ترقی، آبادی میں اضافے اور بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اس کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا ہے- پاکستان، خصوصاً صوبہ بلوچستان، میں قابل تجدید توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جن میں خاص طور پر شمسی اور ہوا کی توانائی شامل ہے- بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور کم آبادی والا صوبہ ہے، اپنی دور دراز دیہی آبادی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے قابل تجدید توانائی پر انحصار کرتا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں روایتی بجلی کی ترسیل ممکن نہیں ہے- شمسی توانائی چھوٹے پیمانے کی ضروریات کے لیے موزوں ہے، جبکہ پسنی، مکران اور گوادر جیسے ساحلی علاقوں میں ہوا کی توانائی پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے- پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق ان علاقوں میں ہوا کی رفتار بجلی پیدا کرنے کے لیے موزوں ہے- اگر مقامی سطح پر ہوا کے ٹربائنز تیار کیے جائیں تو منصوبوں کی لاگت میں کمی آئے گی اور بلوچستان میں پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا- اس کے ساتھ ساتھ، بائیو گیس بھی توانائی پیدا کرنے کا ایک سستا اور مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے-
پانی:
بلوچستان کی سخت اور مشکل جغرافیہ کے باعث پانی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جس سے صوبے کی ترقی متاثر ہوتی ہے- پانی زراعت، لائیو اسٹاک، صنعت اور عوامی ضروریات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، مگر نیم خشک ماحول میں بارش اور زیرِ زمین پانی پر انحصار مشکلات بڑھا دیتا ہے- چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور جدید آبپاشی کے نظام پانی کے مؤثر استعمال کو ممکن بنا کر صوبے کی معیشت اور عوامی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں-
بلیو اکنامی:
بلوچستان کی خوشحالی کیلئے بلیو اکانومی کی ترقی انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ پائیدار اقتصادی ترقی اور ساحلی کمیونٹیز کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے- بلوچستان کے وسیع ساحلی علاقے کے ساتھ سمندری وسائل جیسے مچھلی کی برآمدات (Seafood exports)، معدنیات (Minerals)، جہاز سازی اور جہاز توڑنے (Shipbuilding and breaking)، ساحلی ترقی (Coastal development)، اور سمندر کے کنارے ترقیاتی منصوبے (Offshore development) کو بروئے کار لا کر معیشت کو متنوع بنانے اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے- چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت گوادر پورٹ کی ترقی اور وزارت بحری امور کے قیام جیسے اقدامات بلیو اکانومی کے فروغ کیلیے بڑھتی ہوئی وابستگی کا مظہر ہیں- جدید انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری نئے مواقع پیدا کرے گی، جن میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور قابل تجدید توانائی جیسے اہم شعبے شامل ہیں- مضبوط حکومتی نظام، پالیسی فریم ورک اور بین الاقوامی تعاون ہی وہ بنیاد ہیں جن کے ذریعے بلوچستان کو بلیو اکانومی کے مکمل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں- سمندری صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پیدا ہونے والی نیلی معیشت (بلیو اکانومی) کا تخمینہ 2030ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے- بلوچستان کا 750کلومیٹر کا ساحلی علاقہ، سمندری وسائل سے مالا مال ہے، ماہی گیری، غیر جاندار وسائل جیسے شیل گیس، ہائیڈرو کاربن، معدنیات اور وسیع مینگروو علاقے سالانہ برآمدات میں 4بلین ڈالر کا حصہ ڈال سکتے ہیں- بحیرہ عرب کی متنوع انواع بشمول سیٹاسین اور مرجان قیمتی اثاثے ہیں-
بلوچستان کی اقتصادی صلاحیت، زرعی، لائیو اسٹاک اور معدنیاتی شعبوں کا کردار:
بلوچستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے اور صوبے کی 62 فیصد آمدنی کاشتکاری سے حاصل ہوتی ہے- جعفرآباد، نصیر آباد، اوستہ محمد، اور ڈیرہ مراد جمالی زراعت کے اہم مراکز ہیں- بلوچستان پاکستان میں انگور، چیری اور بادام کی 90فیصد پیداوار فراہم کرتا ہے، جبکہ آڑو، انار اور خوبانی کا 60 فیصد حصہ بھی یہاں پیدا ہوتا ہے- یہ صوبہ 70 فیصد کھجور اور 34 فیصد سیب کی پیداوار کا مرکز ہے، جس میں 0.3 ملین ٹن سیب کی خاص اقسام شامل ہیں- مزید برآں، بلوچستان 130 اقسام کی کھجوریں برآمد کرتا ہے، جو اس کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں-
صوبہ بلوچستان لائیو اسٹاک کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، 52 فیصد بھیڑوں، 41 فیصد اونٹوں، اور 22 فیصد بکریوں کا شمار اسی صوبہ سے ہوتا ہے، اور بنجر علاقوں میں 66 فیصد گھرانوں کو روزگار فراہم کرتا ہے- بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خالص دودھ اور گوشت کی مانگ کے ساتھ، یہ شعبہ صوبے کی زراعت کے جی ڈی پی میں 50 فیصد اور مجموعی صوبائی جی ڈی پی میں 10فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے- مویشی پالنے اور ڈیری فارمنگ کی جدید کاری بھی مقامی سطح پر معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے- ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس شعبے کو ترجیح دی جائے تو اس سے مسلم ممالک کو گوشت کی برآمد میں اضافہ ہو گا جس سے اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے- بلوچستان پاکستان کی لائیو اسٹاک کی 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہے، جس میں 70فیصد آبادی اس شعبے سے منسلک ہے-
بلوچستان کے قدرتی وسائل بشمول تانبا، سونا، تیل، سیاہ موتی، کرومائٹ، قیمتی پتھر اور قدرتی گیس ہیں، جن کی مالیت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے- صوبائی حکومت کان کنی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے چینی کمپنیوں کو راغب کر رہی ہے تاکہ ان وسائل کو ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے- تاہم، معدنیات کا اخراج ایک متنازعہ مسئلہ ہے، مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ صوبہ اپنی وسیع دولت کے باوجود غریب ہے- صوبے کے جائز حقوق کو یقینی بنا کر شورش کو ختم کیا جا سکتا ہے- ان تمام تر وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان کے اندر ہر لحاظ سے استحکام ہونے کی صلاحیت موجود ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو مستحکم کس طرح رکھا جائے تاکہ صوبہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو-
گوادر کی معاشی اہمیت وسطی ایشیا اور چین کے لئے:
گوادر پاکستان کے لیے ایک ایسا معاشی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کئی معاشی چیلنجز کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ چین کی سرمایہ کاری اور سی پیک کے تحت یہاں صنعتی زون، سڑکیں اور ریل کا نظام روزگار کے 80,000 سے زائد ممکنہ مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی لئے گوادر کو کنیکٹیویٹی ہب (Connectivity Hub) کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ تک رسائی ممکن ہے- خصوصاً وسطی ایشیا کی لینڈ لاک (Landlocked) ریاستوں کیلئے یہ واحد راستہ ہے جو انہیں سمندر تک رسائی دے کر عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے-
مزید یہ کہ گوادر تجارت کے وقت میں نمایاں کمی لاتا ہے؛ چین کو آبنائے ملاکا کے ذریعے تقریباً 13,000 کلومیٹر کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس میں 25 سے 30 دن لگتے ہیں، جبکہ گوادر کے ذریعے یہ فاصلہ کم ہو کر صرف 2500 کلومیٹر رہ جاتا ہے اور سفر کا وقت 5سے 7 دن تک محدود ہو جاتا ہے، جس سے تجارتی اخراجات میں60 فیصد تک کمی ممکن ہے- گوادر آبنائے ہرمز سے صرف 604 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو تیل کی تجارت کا ایک بڑا راستہ ہے جہاں سے دنیا کا 40 فیصد تیل گزرتا ہے- یہ چین کے لیے ایک قیمتی متبادل راستہ بنتا ہے- تاریخی طور پر یہ بندرگاہ بحری و تجارتی مرکز کے طور پر استعمال ہوتی رہی جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے- یوں گوادر پاکستان اور خطے کے معاشی مستقبل کی ایک کلیدی شاہراہ ہے-
بیرونی ممالک سے ہونے والی سرمایہ کاری:
بلوچستان میں بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری بھی ضروری ہے، جس سے صوبے کا انفراسٹکچر بہتری، آمدورفت میں اضافہ، ریجنل کنیکٹیویٹی، ٹیکنولوجیکل ٹرانسفارمیشن، غربت کا خاتمہ، انسانی وسائل کی ترقی اور عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی- بلوچستان کے قدرتی وسائل اسے بین الاقوامی مفادات کا مرکز بناتے ہیں- اس کی 760 کلومیٹر کی ساحلی پٹی اور افغانستان، کیسپین علاقہ اور وسطی ایشیا سے قربت اسے تجارت اور توانائی کی راہداریوں کے لیے ایک اہم راستہ بناتی ہے- خطے میں گیس، تانبے اور سونے کی دریافت نے اس کی جیو اکنامک اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے- 14
ریکو ڈیک میں تانبے اور سونے کے منصوبے:
ریکو ڈیک منصوبہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مضبوط حمایت حاصل ہے- منصوبے کے تحت تانبے اور سونے کی کان کنی سے نہ صرف عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کیلئے ضروری معدنیات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جائے گی بلکہ بلوچستان کے پسماندہ ضلع چاغی میں روزگار، صحت، تعلیم اور مقامی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے- اس منصوبے کے لیے مشترکہ ماڈل کے تحت بیریک مائننگ کارپوریشن کا 50 فیصد، حکومتِ بلوچستان کا 25 فیصد اور وفاقی حکومت کا 25 فیصد حصہ شامل ہے- ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) نے 300 ملین ڈالر کے سینئر لون اور 110 ملین ڈالر کی کریڈٹ گارنٹی فراہم کی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 6 ارب ڈالر سے زائد مالیاتی یقین دہانیاں مل چکی ہیں، جو مطلوبہ رقم سے تقریباً دوگنی ہیں- اس میں ورلڈ بینک گروپ، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، جاپان، کینیڈا، جرمنی اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک اور اداروں نے شمولیت اختیار کی ہے- تکنیکی رپورٹ کے مطابق کان 2028 میں 45 ملین ٹن سالانہ پروسیسنگ سے آغاز کرے گی، جو 2034 میں 90 ملین ٹن سالانہ تک بڑھا دی جائے گی اور تقریباً 37 سال تک کام جاری رہے گا- منصوبے کی داخلی شرحِ منافع 21.32 فیصد اور سرمایہ واپسی کی مدت چھ سال دو ماہ ہے، جبکہ مجموعی نیٹ کیش فلو 70 ارب ڈالر تک متوقع ہے-
سی پیک کے تحت ہونے والے منصوبے:
سی پیک کے تحت توانائی کے 21 منصوبے ہیں، جن کی کل لاگت26.37 بلین ڈالر ہے اور یہ 13810 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- ان میں سے دو منصوبے بلوچستان میں ہیں: گوادر میں 300 میگاواٹ کا کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ اور لسبیلہ میں 1320 میگاواٹ کا حبکو پاور پلانٹ، جس کی مجموعی لاگت2.54 بلین ڈالرہے-
’’ٹرانسپورٹیشن اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کا مقصد علاقائی رابطوں کو بڑھانا ہے- پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے مطابق انفراسٹرکچر کے 24 منصوبوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن میں سے 6 بلوچستان کیلیے مختص ہیں: مشکل-پنجگور روڈ، آواران-خضدار روڈ، نوشکی-مشکیل روڈ، ہوشاب-آواران روڈ، ژوب-کوئٹہ روڈ اور خضدار-بسیمہ روڈ اور ریلوے کے شعبے میں کراچی سے پشاور تک مین لائن-1 کی اپ گریڈیشن، بلوچستان سے گزرنے اور کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک کی تعمیر نو شامل ہے- اس کے علاوہ گوادر جیکب آباد ریلوے لائن اور پشاور سے طورخم تک نئی ریلوے لائن کی تعمیر سے بھی بلوچستان کو فائدہ ہوگا- ان منصوبوں سے سڑک اور ریل کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے-
گوادر جو کہ سی پیک کا ایک اہم حصہ ہے، متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے تیار کیا گیا ہے- اس کی اسٹریٹجک اہمیت اس کی قدرتی گہرے پانی کی وجہ سے ہے جو کہ بڑے جہازوں کو ایڈجسٹ کر سکتا ہے- گوادر کے منصوبوں میں فری زون اور بندرگاہ کی ترقی، ایسٹ بے ایکسپریس وے، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، میٹھے پانی کے نیٹ ورکس، پاک چین دوستی ہسپتال، 300 میگاواٹ کاکول پاور پلانٹ، ڈی سیلینیشن پلانٹس، بریک واٹر کی تعمیر، ڈریجنگ، لینڈنگ جیٹی اور فشنگ بوٹس، اور سمارٹ ماحول شامل ہیں- یہ منصوبے گوادر اور بلوچستان کے اقتصادی ترقی کے امکانات اور علاقائی روابط میں اضافہ کریں گے-
سعودی عرب کی گوادر کے اندر سرمایہ کاری:
پاکستان اور سعودی عرب گوادر میں 10بلین ڈالرز کی آئل ریفائنری کی تعمیر کے لیے شراکت داری کر رہا ہے، جس میں 5 پاکستانی سرکاری کمپنیاں 70 فیصد ایکویٹی کی بنیاد پر اور سعودی آرامکو 30 فیصد سرمایہ کاری کر رہی ہے- یہ میگا پروجیکٹ 4 لاکھ بیرل یومیہ کی گنجائش کا حامل ہوگا جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ایندھن کی طلب کو پورا کرے گا- یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات اور دوستانہ تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے، گوادر میں ریفائنری کا قیام، بلوچستان میں ایک اسٹریٹجک گہرے پانی کی بندرگاہ، خطے کی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری، دونوں ممالک کیلئے باہمی فوائد اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا- پاکستان، بلوچستان میں واقع ریکوڈک کان جو کہ سالانہ 45 ملین ٹن تانبے اور سونے کے مواد کو پراسیس کر سکتی ہے اگر اس پہ ترجہاتی طور پر کام کیا جائے- جس سے بلوچستان کے مقامی لوگوں کے لئے 10ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، جو کہ خطے کی اقتصادی ترقی کا ضامن بنے گا-
بلوچستان، قدرتی وسائل کا خزانہ ہے، جس میں تانبا، سونا، ماربل، سُلیمانی، گرینائٹ اور معدنیات اور پتھروں کی ایک شاندار صف موجود ہے- اکیلے ضلع چاغی میں سنگ مرمر (2.5 بلین ٹن) اور اونکس (15-20 ملین ٹن) کے وسیع ذخائر ہیں، جس میں سالانہ 6 لاکھ 48 ہزار ٹن ماربل (جس کی قیمت $1 بلین سے زیادہ ہے) اور 4 لاکھ 68 ہزار ٹن سُلیمانی کی پیداوار ہوتی ہے- جو $56 ملین سے زیادہ ہے- مزید برآں، یہ خطہ سالانہ 36 ہزار ٹن سے زیادہ گرینائٹ پیدا کرتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 7 ملین ڈالر ہے۔ یہ تمام معدنیات صوبے کی بے پناہ اقتصادی صلاحیت کو کھولنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں- بلوچستان کا بھرپور ارضیاتی منظر نامہ اس کی وسیع صلاحیت کا ثبوت ہے، جس سے فائدہ اٹھانے اور اسے دنیا کے سامنے دکھانے کا انتظار ہے-
امریکہ کی بلوچستان میں سرمایہ کاری:
حکومت پاکستان، بلوچستان کے معدنی وسائل کو استعمال میں لا کر معاشی ترقی لانے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر تانبے، سونے، انٹیمی اور ریئر ارتھ عناصر جیسے اہم معدنیات کو اسٹریٹجک بنیادوں پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے- اسی سلسلے میں پاکستان نے امریکی کمپنی USSM کے ساتھ تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے اور پسنی میں ایک نئی بندرگاہ کی تجویز دی ہے، جو افغانستان اور ایران کے قریب بحیرہ عرب میں واقع ہے، تاکہ معدنی وسائل تک رسائی بہتر ہو اور ایک ریلوے لائن کے ذریعے بلوچستان کے معدنیاتی اضلاع کو بندرگاہ سے جوڑا جائے- ان اقدامات کا بنیادی مقصد بلوچستان میں صنعتی ڈھانچے، روزگار کے امکانات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو آگے بڑھانا ہے تاکہ صوبے کو ملک کی مجموعی اقتصادی پیش رفت کے ساتھ جوڑا جا سکے-
اقتصادی ترقی میں عملی جامہ پہنانے کے لیے درپیش مسائل:
تمام تر وسائل ہونے کے باوجود بلوچستان کا شمار آج بھی کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر صوبوں میں ہوتا ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں- جن میں ایک وجہ ادارہ جاتی شمولیت کی کمی ہے اور دوسری بلوچستان میں تعلیم کا فقدان ہے- جس سے دو مسائل پیدا ہوتے ہیں اول وہاں کے لوگ ناقص تعلیم ہونے کی وجہ سے روزگار حاصل نہیں کر پاتے جس سے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں- دوم میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس سے حق دار اپنا حق حاصل نہیں کر پاتا- اس کے علاوہ بلوچستان میں بیشتر سیکورٹی کے مسائل بھی ہیں جو کہ ملک و علاقے کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں- یہی وجہ ہے کہ بہت سی بیرونی کمپنیاں اور ممالک یہاں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں- اس کے علاوہ بارڈر کا مسئلہ بھی سنگین ہے، ایک جانب افغانستان اور دوسری جانب ایران ہے- جہاں سے غیر قانونی تجارت یعنی اسمگلنگ کی جاتی ہے جس سے اقتصادی ترقی کو سنگین مسائل پیش آتے ہیں- اس کے برعکس یہاں کے مقامی لوگوں میں خاص تعلیم اور سکلڈ لیبر نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے- مزید یہ کہ بھارت بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے جس کی ایک مثال، کلبھوشن یادیو کا بلوچستان سے گرفتار ہونا اور اس بات کا اعتراف کرنا کہ وہ RAW کے منصوبے کے تحت تخریبی کارروائیوں کے لیے پاکستان آیا تھا- بھارتی حکومت نے اسے جعلی شناخت حسین مبارک پٹیل پر پاسپورٹ جاری کیا، جب کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے بھی بلوچستان میں اس کے کردار کا اقرار کیا۔
اس کے علاوہ اسرائیل اور واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک MEMRI نے بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ (BSP) کا آغاز کیا ہے، جس میں کچھ بلوچ علیحدگی پسند بھی شامل ہیں- اس پروجیکٹ میں بلوچستان کے قدرتی وسائل اور گوادر و چابہار بندرگاہوں کو ایران اور پاکستان کے خلاف اسٹریٹجک اہمیت کے تناظر میں اجاگر کیا گیا ہے- اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل اور بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایران اور پاکستان کی سیاسی اور حفاظتی پوزیشن کمزور ہو سکے-
ان تمام تر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے- تاکہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار میسر ہو سکے- اس کے علاوہ محکمہ قانون اور صحت کو 100فیصد بحال کرنا لازمی ہے- مزید یہ کہ بلوچستان ایسا خطہ ہے جہاں کے راستے بہت دشوار ہیں- جس کی وجہ سے نظام آبپاشی بھی مربوط نہیں جو نہ صرف کاشتکاری بلکہ انسانوں اور مویشیوں کیلئے بھی خطرے کا باعث ہے- اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں کان کنی کا کام بھی پانی کی ناقص فراوانی کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے- اس لیے نظام آبپاشی کے اندر مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام پراجیکٹس اپنی تکمیل کو پہنچ سکیں- مزید یہ کہ مقامی لوگوں کے کاروبار کیلئے حکومت مواقع فراہم کرے- اور چھوٹی صنعتوں کے لیے بجٹ مختص کرے، قرضوں اور گرانٹس کے ذریعے مالی مدد فراہم کرنے سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوگا- اس کے لیے مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی جانب سے بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دینے اور اس کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، جس سے یہ صوبہ اپنی صلاحیتوں کو کھولنے اور اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے قابل ہوگا-
اختتامیہ:
صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل رکھنے والا ایک منفرد خطہ ہے- یہ وسائل نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے- بلوچستان کی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہاں کی مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی مواقع فراہم کیے جائیں، جس سے ان کی زندگیوں میں بہتری آئے اور صوبے کی معیشت مستحکم ہو- مائیکرو اکنامک پروجیکٹس اور چھوٹی صنعتوں کے قیام سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ صوبے میں بے روزگاری جیسے مسائل کو بھی حل کیا جا سکے گا- مزید برآں، حکومت کو چاہیے کہ مقامی افراد کو تربیت اور سہولت فراہم کرے تاکہ وہ اپنے وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کر سکیں اور معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں- اس کے علاوہ، عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ ماحول پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی کمپنیاں بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز نہ کریں- جب مقامی معیشت مضبوط ہو گی اور عالمی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی، تو یہ صوبہ ترقی کی نئی منازل طے کرے گا- اس طرح بلوچستان کی ترقی صرف ایک خواب نہیں رہے گی بلکہ ایک حقیقت بن جائے گی اور بانئ پاکستان کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا جس میں ملک ترقی، خوشحالی اور استحکام کی طرف گامزن ہو گا- بلوچستان کی ترقی کا مطلب پورے پاکستان کی ترقی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے-
٭٭٭
(References):
Ahmed, Manzoor, and Akhtar Baloch. "The political economy of development: A critical assessment of Balochistan, Pakistan." (2017): 1026-1045
Ahmed, Manzoor, and Gulawar Khan. “The history of baloch and balochistan: a critical appraisal.” South Asian Studies 32, no. 1 (2020).
Hassan Raisani, The Kalat State and Its Integration into Pakistan, The Balochistan Diaries, July 8, 2024.
The Balochistan diaries. " Exploring the Rich History and Culture of Balochistan: From Ancient Civilizations to Modern Life" (2024).
Perkins, Dwight, ed. Rural small-scale industry in the People’s Republic of China. Univ of California Press, 2022.
Umrani, Samiullah. "From Coastlines to Culture: Balochistan’s Role in Pakistan’s Tourism Future." Asia Today, September 28, 2024.
Younis, S., S. Ramzan, and N. Gul. “Assessing the Impact of Vocational and Technical Education.” (2020).
Anwar, Naveed Ur Rehman, Waqas Ahmed Mahar, and Jalal Faisal Khan. "Renewable energy technologies in Balochistan: Practice, prospects and challenges." In 5th International Conference on Energy, Environment & Sustainable Development (EESD) 2018. Mehran University of Engineering and Technology (MUET), Jamshoro, Pakistan, 2018.
Khan, Khurram Aslam. "Water Scarcity and its Impact on the Agricultural Sector of Balochistan." Journal of Public Policy Practitioners 1, no. 1 (2022): 01-66.
Ur Rehman, Munib. "POTENTIAL, CHALLENGES, AND PROSPECTS FOR PAKISTAN'S BLUE ECONOMY." Journal of Maritime Logistics 3, no. 1 (2023): 94-106.
Barrech, Dost, Safia Bano, Siraj Bashir, Huma Zafar, and Samra Naz. “Balochistan’s Potential under CPEC: Opportunities and Challenges.” Qualitative Research 23, no. 2 (2023): 235-257.
Baloch, Mumtaz Ali, Adil Zaman, and Naseebullah Achackzai. “THE CPEC AND BALOCHISTAN: SHARE, RESERVATIONS AND POTENTIAL: HOW CAN CHINESE EXPERTISE AND INVESTMENT HELP IN HARNESS THESE POTENTIALS IN FUTURE.” Pakistan Journal of International Affairs 6, no. 2 (2023).
Asifa Zafar, “The Strategic Importance of Gwadar Port in Regional Connectivity and Rivalries,” Advance Social Science Archive Journal 3, no. 2 (2025): 1694–1705, accessed November 20, 2025,
https://assajournal.com/index.php/36/article/view/456/664.
Asian Development Bank, “ADB Approves Financing for Transformative Reko Diq Copper Mining Project in Pakistan,” August 22, 2025, ADB News, https://www.adb.org/news/adb-approves-financing-transformativereko-diq-copper-mining-project-pakistan.
Ahmed, Nazir, and Musarrat Jabeen. “BALOCHISTAN TURMOIL CONFLICT TRANSFORMATION APPROACH.” Margalla Papers 22 (2018).
Abid Hussain, “‘Strategic Handshake’: How Pakistan Is Wooing Trump with Critical Minerals,” Al Jazeera, September 25, 2025,
https://www.aljazeera.com/news/2025/9/25/strategic-handshake-how-pakistan-is-wooing-trump-with-critical-minerals.
Reuters, “Pakistan Courts US with Pitch for New Arabian Sea Port, FT Reports,” Reuters, October 4, 2025,
https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-courts-us-with-pitch-new-arabian-sea-port-ft-reports-2025-10 -04/.
“Israel Is Trying to Hijack the Baloch Struggle,” Al Jazeera, July 25, 2025, accessed November 20, 2025,
https://www.aljazeera.com/opinions/2025/7/25/israel-is-trying-to-hijack-the-baloch-struggle.
“Israel Is Trying to Hijack the Baloch Struggle,” Al Jazeera, July 25, 2025, accessed November 20, 2025,
https://www.aljazeera.com/opinions/2025/7/25/israel-is-trying-to-hijack-the-baloch-struggle.