درجنوں افغان شہریوں کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ
پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت، پاکستانیوں سے شادی کرنے والوں کی بیدخلی رک گئی، معزز عدالت نے 109 شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے کا حکم دیا ہے، پی او سی کے تحت ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
پشاور: (نیوز ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ میں پاکستانیوں سے شادی کرنے والے افغان باشندوں کی پی او سی کیلئے کیس کی سماعت ہوئی ہے جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے متعلقہ درخواستوں پر سماعت کی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے سیف اللّٰہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف پیش کیا کہ پی او سی کارڈ کے ذریعے کوئی بھی غیر ملکی پاکستانی شہری کے تمام حقوق حاصل کرسکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ پی او کارڈ کا حامل شخص پاسپورٹ نہیں بنوا سکتا اور نہ ہی ووٹ ڈال سکتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ نادرا افغانوں سے متعلق کارڈ دینے کے اپنے قوانین پر عمل نہیں کر رہا، نادرا کا یہ اقدام وزارت داخلہ کے مؤقف کے مطابق نہیں ہے۔ افغان باشنوں کو پی او آر اور اے سی سی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے 109 افغان باشندوں کی درخواستیں منظور کر لیں اور ان تمام 109 افغان باشندوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ 17 نومبر کو پشاور ہائیکورٹ میں افغان شہریوں سے شادی کرنے والی 35 پاکستانی خواتین کے کیسز کی سماعت ہوئی تھی۔ عدالت عالیہ نے دیگر 120 کیسز کو اکھٹا کرکے سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی تھی