الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین میں تبدیلیوں کا فیصلہ
اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی اصلاح کیلئے آئین و قانون میں ترامیم کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن نے اپنی لیگل ریفارمز کمیٹی کو متحرک کر دیا ہے۔ لیگل ریفارمز کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام، لاء سمیت تمام ونگز کے حکام شریک ہوں گے، لیگل ریفارمز کمیٹی موجودہ انتخابی قانون اور آئینی شقوں کا جائزہ لے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی 2024ء کے عام انتخابات میں سامنے آنے والی آئینی و قانونی خامیوں کا جائزہ لیکر اپنی سفارشات دے گی۔ الیکشن کمیشن انتخابی قوانین کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کیلئے قانونی فریم ورک کو بھی بغور دیکھے گا۔ الیکشن کمیشن آئین، الیکشن ایکٹ 2017ء اور الیکشن رولز 2017ء میں ضروری ترامیم کی تجاویز تیار کرے گا۔ انتخابی قوانین کو عالمی معیار کے مطابق بہترین طریقوں سے ہم آہنگ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ الیکشن کمیشن انتخابی قوانین میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے متعلقہ فورمز کو سفارشات ارسال کرے گا۔
انتخابی قوانین میں ترامیم کا مقصد شفاف، منصفانہ اور یکساں انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل سے متعلق آئینی شقوں کا جائزہ 2026ء تک مکمل کرنے کا ہدف تیار کر رکھا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء اور الیکشن رولز 2017ء کا جائزہ دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ بلدیاتی قوانین کو الیکشن ایکٹ 2017ء اور الیکشن رولز 2017ء سے ہم آہنگ بنانے کی تجاویز تیار کی جائیں گی۔ بلدیاتی قوانین میں ترامیم پر الیکشن کمیشن نئی قانون سازی کے تین ماہ کے اندر اپنی رائے دے گا، الیکشن کمیشن کا مقصد انتخابی قوانین کو بدلتے حالات کے مطابق مؤثر اور جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔