معروف بھارتی ماہر تعلیم سونم وانگچک کی صحت مزید بگڑ گئی

image
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت کے معروف ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی صحت سے متعلق تشویشناک خبریں گردش کر رہی ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد ممتاز ادیبوں، فلم سازوں، فنکاروں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو 19 روز گزر چکے ہیں۔ بھارتی فنکاروں، دانشوروں، ادیبوں اور دیگر ممتاز شخصیات نے سونم وانگچک سے کہا ہے کہ آپ ہماری اجتماعی آواز اور ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے۔ سونم سے کی گئی اپیل پر دستخط کرنے والوں میں معروف ناول نگار اروندھتی رائے، فلم ساز زویا اختر اور دیگر ممتاز شخصیات کے نام شامل ہیں۔ بھارتی فنکاروں اور دانشوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سونم اور ان کے ساتھ احتجاج کرنے والوں سے فوری طور پر مذاکرات کریں اور اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور احتجاج میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ شرکاء کا مطالبہ ہے کہ بھارتی وفاقی وزیر تعلیم استعفیٰ دیں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ بھارت کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک کا وزن خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی صحت تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ان کے اعضاء کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نئی دہلی ہائیکورٹ نے وانگچک کی صحت کی نگرانی اور ان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔