افغانستان میں سیلابی ریلوں سے تباہی

image
کابل: (ویب ڈیسک) کابل انتظامیہ کے مطابق حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے 20 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد لاپتہ ہوچکے ہیں۔ شمال مشرقی دریاؤں میں شدید طغیانی ہے، جہاں بپھرے ہوئے سیلابی ریلوں نے مکانات، کھڑی فصلوں اور اہم سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بالخصوص صوبہ نورستان میں سیلابی تباہ کاریوں کے باعث متعدد دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں اور کئی خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے ان متاثرہ علاقوں کا زمینی اور ڈیجیٹل رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔ متاثرین کو بچانے کے لیے مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ تاہم، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور خراب موسم کے باعث امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود امدادی کارکن متبادل طریقوں سے پھنسے ہوئے شہریوں تک رسائی حاصل کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں میں لاپتہ ہونے والے تقریباً 100 افراد کو تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مواصلات بحال ہونے پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فی الحال بے گھر خاندانوں کو خیمے اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ عوام کو مزید برسات کے پیشِ نظر الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔