میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں پر ہزاروں مقدمات درج
کیلفورنیا: (ٹیکنالوجی ڈیسک) امریکہ کی اپیل عدالت نے میٹا، گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف 3 ہزار سے زائد مقدمات کو آگے چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ مقدمات میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے جان بوجھ کر اپنے ایپس کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ بچے اور نوجوان اس کے عادی ہو جائیں۔ اس سے نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ مقدمات امریکی ریاستوں، مقامی حکومتوں، اسکول، اضلاع، والدین اور دیگر افراد نے دائر کیے ہیں۔ کمپنیوں نے اپنے دفاع میں امریکی قانون کی شق 230 کا حوالہ دیا تھا۔ یہ قانون عام طور پر آن لائن پلیٹ فارمز کو ان کے صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے مواد سے متعلق بعض قانونی ذمہ داریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے کمپنیوں کی اس دلیل کو اس مرحلے پر قبول نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ شق 230 کمپنیوں کو مقدمات سے مکمل استثنیٰ نہیں دیتی، "سوشل میڈیا کی لت" والا کیس سنجیدہ ہے اور اس پر مکمل سماعت ہو گی۔ واضح رہے کہ نیو میکسیکو کی عدالت پہلے ہی میٹا کو 567 ملین ڈالر جرمانہ اور نوجوانوں کی حفاظت کے احکامات دے چکی ہے۔