کیا موبائل ٹاور کی لہریں انسانوں کیلئے خطرناک ہیں؟

image


اسلام آباد: (ٹیکنالوجی ڈیسک) موبائل ٹاور، موبائل فون کو سگنل بھیجنے اور وصول کرنے کیلئے "ریڈیو فریکوئنسی" لہروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ لہریں "غیر آئنائزنگ" قسم کی ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ایکس رے کی طرح طاقتور نہیں ہیں کہ براہِ راست ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق بہت زیادہ سطح پر یہ لہریں صرف جسم کے ٹشوز کو تھوڑا گرم کر سکتی ہیں۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹاور کے قریب رہنے سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم ابھی تک کسی بڑی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا۔ امریکن کینسر سوسائٹی اور عالمی ادارہ صحت دونوں کا کہنا ہے کہ ٹاور اور کینسر کے درمیان کوئی واضح تعلق کے شواہد نہیں ملے۔ فون اور ٹاور دونوں پر کی گئی اسٹڈیز میں بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
  
ٹاور سے نکلنے والی لہریں زیادہ تر سیدھی آگے جاتی ہیں اور فاصلے کے ساتھ بہت تیزی سے کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس لیے زمین پر جہاں لوگ رہتے ہیں وہاں لہروں کی سطح حفاظتی حد سے بہت کم ہوتی ہے۔ اینٹینا کی اونچائی، سمت اور طاقت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فائیو جی کے ٹاورز سے بھی لہروں کی سطح پرانے ٹاورز جیسی ہی ہے۔ البتہ سائنسدان اب بھی لمبے عرصے کے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔