ایران نے امریکا سے ثالثی کی ضرورت مسترد کردی
تہران: (ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے کسی نئے ثالث کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اصل مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ امریکی حکومت کا طرزِ عمل اور اس کی پالیسی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور تعلقات کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض یورپی ممالک بھی دوطرفہ رابطوں کے دوران اپنی رائے پیش کر رہے ہیں اور مثبت کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، تاہم اسے کسی نئے باضابطہ ثالث کی موجودگی نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی چیلنج ثالثی کا معاملہ نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر، غلط اندازے اور ایسی پالیسیوں پر اصرار ہے جنہیں ایران ماضی میں ناکام قرار دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کیلئے ایک مشترکہ طریقہ کار تشکیل دینے پر مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی ترجمان کے مطابق خطے کی سکیورٹی صورتحال، امریکا اور اس۔رائ۔ی۔ل کی کارروائیوں، متعدد فریقوں کی موجودگی اور بعض رکاوٹوں کے باعث اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں وقت لگ رہا ہے۔
بقائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیرِ غور نظام کا مقصد دونوں ممالک کے خودمختار حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی وعدوں سے دستبرداری کے باوجود تہران اور مسقط مشترکہ بیان کو حتمی شکل دینے اور محفوظ بحری نظام قائم کرنے کیلئے سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیاں بھی یہاں سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔