یومِ آزادی کی تقریبات پر خواجہ سعد رفیق کا اظہارِ تشویش

image


لاہور: (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے 14 اگست کی تقریبات کے دوران شہریوں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آزادی کا دن صرف جھنڈے لہرانے، ڈھول باجے، ناچ گانے اور کیک کاٹنے تک محدود رہے گیا تو یہ رویہ ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ آزادی کی رات سڑکوں پر بے ہنگم شور، ہلڑبازی اور نازیبا حرکات کا سلسلہ جاری رہا۔ ضروری کام سے نکلنے والے شہری امیر و غریب، پڑھے لکھے و ان پڑھ کی تمیز کے بغیر پریشانی کا شکار ہوئے اور گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ اسلام آباد میں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ایک سرکاری تقریب کی سیکیورٹی کے لیے کئی راستے اچانک بند کر دیئے گئے۔ اس وجہ سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت ہزاروں افراد کو گھنٹوں سڑکوں پر ذلیل ہونا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا نوٹس کس نے لیا۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی اور سرکاری تقریبات میں ان لوگوں کا ذکر تک نہ ہوا جنہوں نے پاکستان کے لیے جانیں، عمریں، عصمتیں، جائیدادیں اور گھر بار قربان کیے۔ سیاسی جماعتیں حسبِ معمول خاموش رہیں جبکہ "انجمن ہائے ستائش باہمی" متحرک نظر آئیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ وقت میں ملک لاقانونیت، غربت اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں یومِ آزادی کو محض رسمی تقریب بنانے کے بجائے اسے آئین کے تحفظ، عوامی فلاح اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے عملی عہد کی تجدید کا دن بنانا چاہیے۔