ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی مصنوعات کو تیسرے ممالک کے ذریعے امریکا بھیج رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس طریقے سے ہر سال 300 ارب ڈالر تک بچائے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ 2018ء سے تیز ہوا جب چین پر اضافی ٹیرف لگائے گئے تھے۔ اس کے تحت چینی مال کو پہلے دوبارہ لیبل کیا جاتا ہے، پیکنگ بدلی جاتی ہے، معمولی پراسسنگ کی جاتی ہے اور پھر نئی رسیدیں جاری کر کے اس کا ملکِ ماخذ ایسا ظاہر کیا جاتا ہے جس سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔
رپورٹ میں بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، ملائشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار سمیت 40 سے زائد ممالک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس غیر قانونی ترسیل کا حجم سالانہ 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ دھوکہ دہی کے باعث امریکا میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم ہوئیں اور وفاقی ٹیکس و جی ڈی پی کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اب توجہ ان راستوں کو بند کرنے پر ہے جن سے غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ورکرز اور مینوفیکچررز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کو ٹیرف کے بیانیے کے پیچھے چھپا رہے ہیں۔ ماہرِ معاشیات جیفری سیکس نے کہا ہے کہ چین کے بغیر عالمی معیشت کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اس لیے ری برانڈنگ کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عام امریکی کے لیے رہائش، خوراک اور نقل و حمل تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔