شیخ حسینہ واجد کی حوالگی تک وزیراعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے، بنگلا دیش
ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کی وزارت خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہدول کریم نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیراعظم طارق رحمان کے اگلے ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق افواہوں کو رد کیا اور بتایا ہے کہ ہمارا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں گزشتہ ہفتے بنگلادیش میں بھارتی ہائی کمشنر دنیش تریواڈی نے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
شاہدول کریم نے اس حوالے سے بتایا کہ بنگلا دیش اور بھارت کے عہدیدار وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں رابطے میں رہے ہیں لیکن یہ عمل انسانیت کے خلاف جرائم پر سزایافتہ ہونے کے باوجود شیخ حسینہ کی میڈیا پر کھلے عام بیان بازی کے باعث بگڑ گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت خارجہ پالیسی میں پہلے بنگلہ دیش منصوبے پر عمل پیرا ہوگی جو خودمختاری اور بیرونی عدم مداخلت سے جڑی ہوئی ہے اور اسی طرح بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ سودمند تعلقات کے بھی خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلادیش میں 15 سال تک حکومت کے دوران شیخ حسینہ واجد نے اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر سختی کی اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کی تاہم 2024ء میں طلبہ کی تحریک کے باعث انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، ان کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کو حکومت دی گئی جنہوں نے ملک میں 2026 میں عام انتخابات کرائے۔ شیخ حسینہ واجد کو بنگلا دیش میں قتل سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں سزائے موت بھی سنا دی ہے جبکہ بنگلادیش کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے متعدد مرتبہ درخواست کی گئی ہے۔