رمپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں رواں برس نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ری پبلکن پارٹی کیلئے تشویش کا باعث بن گئی ہے کیونکہ انتخابات میں صدر کی عوامی مقبولیت اہم سیاسی کردار ادا کرتی ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم سطح پر برقرار رہی تو ڈیموکریٹس کے ایوان نمائندگان میں برتری حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے آغاز سے ہی متعدد متنازع فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد اختیار کیے گئے اقدامات نے بھی امریکی ووٹرز کے ایک حلقے میں بے چینی اور ناراضی پیدا کی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خارجہ پالیسی اور داخلی معاملات سے متعلق فیصلے مڈٹرم انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے نہر اونٹاریو کو ’’نہر امریکا‘‘ قرار دینے کے اعلان کو بھی عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی۔ دوسری جانب کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور معاشی معاملات پر بڑھتے اختلافات امریکی صدر کیلئے سیاسی نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ اب مڈٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کیلئے سب سے بڑا چیلنج عوامی اعتماد بحال کرنا اور گرتی ہوئی مقبولیت کے رجحان کو روکنا ہے۔