دہلی میں دو مسلمان خاتون صحافیوں پر پولیس کا بہیمانہ تشدد

image

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دو مسلمان خواتین صحافیوں کو ساکیت تھانے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاتون صحافی شاہین خان کے مطابق انہیں اور ان کی ساتھی کو وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے سوال کرنے پر پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نام پوچھے جانے پر جب انہوں نے اپنا نام ’’شاہین خان‘‘ بتایا تو اہلکاروں کی جانب سے ان پر بدترین تشدد کیا گیا ہے۔

شاہین خان نے ساکیت پولیس اسٹیشن سے جاری ویڈیو رپورٹ میں بتایا کہ دونوں صحافیوں کو ذہنی دباؤ کے ساتھ جسمانی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سے انہیں تھپڑ مارے گئے اور لاٹھیوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں شاہین خان نے اپنے بازو پر تشدد کے نشانات دکھائے، جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں دیکھا گیا ہے۔

واقعے کے بعد ڈیجیٹل پبلشرز اینڈ نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن سمیت صحافتی تنظیموں نے مبینہ پولیس تشدد کی مذمت کی ہے۔ صحافتی تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیموں نے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔